اٹھے نہ دھواں ایسی فضا کس نے ہمیں دی

M. K. Asar (b. 1945)

اٹھے نہ دھواں ایسی فضا کس نے ہمیں دی

اس طرح سلگنے کی سزا کس نے ہمیں دی

اک عہد یہاں پاؤں کی مٹی میں دبا ہے

انگاروں پہ چلنے کی ادا کس نے ہمیں دی

ہم اپنے سمندر کے حوادث میں گھرے ہیں

طوفان میں ساحل سے صدا کس نے ہمیں دی

ہم لوگ تو آزاد فضاؤں میں پلے ہیں

پھر قید میں رہنے کی سزا کس نے ہمیں دی

تسلیم کہ یہ وقت اجالوں کا ہے لیکن

نادیدہ اندھیروں کی قبا کس نے ہمیں دی

مجبور بھڑکنے پہ چراغوں کی طرح ہیں

اب کس سے کہیں ایسی ہوا کس نے ہمیں دی