میں بھی ہوں تنگ کب سے تم بھی ہو تنگ کب سے

Zafar Hashmi (b. 1945)

میں بھی ہوں تنگ کب سے تم بھی ہو تنگ کب سے

حالات کی سپہ سے جاری ہے جنگ کب سے

میری سماعتوں سے ٹکرا رہے تھے ہر دم

خاموش ہو گئے ہیں وہ جل ترنگ کب سے

دشت سفر میں کتنے طوفان سر سے گزرے

تنہا بھٹک رہی ہے کٹ کر پتنگ کب سے

سورج کی روشنی ہے جگنو نہ لمس تاباں

ہے تن بدن سے لپٹی اندھی سرنگ کب سے

سب لوگ پیاس کے ہیں جنگل میں غرق شاید

رہ رہ کے چیختا ہے یہ انگ انگ کب سے

خوشبو کے سلسلے کا رشتہ تھا جس سے قائم

لے کر ہجوم میں ہے وہ بھی تو سنگ کب سے

چل کر ظفرؔ چھڑا دیں کچھ آب تازہ دے دیں

ہر لحظہ کھا رہا ہے ذہنوں کو زنگ کب سے