گر کبھی فرصت ملے تو
Habeeb Kaifi (b. 1945)گر کبھی فرصت ملے تو
دیکھ لینا گل کھلے تو
کچھ سمجھ پایا نہ لیکن
شکر ہے وہ لب ہلے تو
دل کی بات نہ دل میں رکھنا
کہہ دینا گر دل ملے تو
کہلائیں گے آپ مسیحا
میرا کوئی زخم سلے تو
منتظر ہیں آپ کس کے
چل دیے ہی قافلے تو
صدیوں تک چلتے رہتے ہیں
چلنے والے سلسلے تو
وہ نہ ہوگا جو ہوا ہے
گر کبھی ہم پھر ملے تو