رہے دھوپ میں خشک شجر کی طرح
Zafar Hashmi (b. 1945)رہے دھوپ میں خشک شجر کی طرح
پئے درد بھی راہ گزر کی طرح
کبھی موڑ کبھی ہے نشیب و فراز
کہ ہے زندگی ایک سفر کی طرح
نہ تو پیکر نور نہ پیکر تار
رہے آدمی ایک بشر کی طرح
جو غروب ہو شمس سمیٹ لے چاند
ہو طلوع کبھی تو سحر کی طرح
رہے آگ میں بھی کبھی پھول بنے
رہے برف میں بھی تو شرر کی طرح
کھلے دشت میں ایک گلاب کی مثل
پھلے باغ میں میٹھے ثمر کی طرح
کبھی کوہ گراں سے رہے نہ ہراس
جو اٹھے بھی تو گام ظفرؔ کی طرح