Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. اک حرف مدعا تھا لبوں پہ کھٹکتا تھا پھانس سااک نام تھا زبان کا چھالا بنا ہواFahmida Riaz (1946–2018)
  2. اک دن جو بہم ہوں گےتجھ سے ترے درماندہFahmida Riaz (1946–2018)
  3. انسانوں کے دل میں بچوںاک پیار کا دریا بہتا ہےFahmida Riaz (1946–2018)
  4. ایک ہے ایسی لڑکی جس سے تم نے ہنس کر بات نہ کیکبھی نہ دیکھا اس کی آنکھوں میں چمکے کیسے موتیFahmida Riaz (1946–2018)
  5. اے دل کافر عجز سے منکر آج ترا سر خم کیوں ہےتیری ہٹیلی شریانوں میں یہ بے بس ماتم کیوں ہےFahmida Riaz (1946–2018)
  6. اے دوست پرانے پہچانےہم کتنی مدت بعد ملےFahmida Riaz (1946–2018)
  7. بیٹھا ہے میرے سامنے وہجانے کسی سوچ میں پڑا ہےFahmida Riaz (1946–2018)
  8. پتھریلے کہسار کے گاتے چشموں میںگونج رہی ہے ایک عورت کی نرم ہنسیFahmida Riaz (1946–2018)
  9. تم بالکل ہم جیسے نکلےاب تک کہاں چھپے تھے بھائیFahmida Riaz (1946–2018)
  10. جن پر میرا دل دھڑکا تھاوہ سب باتیں دہراتے ہوFahmida Riaz (1946–2018)
  11. دل میں کب سے رم جھم کرتیکیسی برکھا برس رہی ہےFahmida Riaz (1946–2018)
  12. دلی! تری چھاؤں بڑی قہریمری پوری کایا پگھل رہیFahmida Riaz (1946–2018)
  13. دنیا کی لمبی راہوں پر ہم یوں تو چلتے جاتے ہیںکچھ ایسے لوگ بھی ملتے ہیں جو یاد ہمیشہ آتے ہیںFahmida Riaz (1946–2018)
  14. رات اک رنگ ہے اک راگ ہے اک خوشبو ہےمہرباں رات مرے پاس چلی آئے گیFahmida Riaz (1946–2018)
  15. سنسناہٹوں کے ساتھگڑگڑاہٹوں کے ساتھFahmida Riaz (1946–2018)
  16. سنگ دل رواجوں کییہ عمارت کہنہFahmida Riaz (1946–2018)
  17. قطرہ قطرہ دل میں آنسو گرتے ہیںاک آنسو اس شخص کا جو بیگانہ ہےFahmida Riaz (1946–2018)
  18. کتنے بخت والے ہوزندگی میں جو چاہاFahmida Riaz (1946–2018)
  19. کچھ لوگ تمہیں سمجھائیں گےوہ تم کو خوف دلائیں گےFahmida Riaz (1946–2018)
  20. کولھوں میں بھنور جو ہیں تو کیا ہےسر میں بھی ہے جستجو کا جوہرFahmida Riaz (1946–2018)
  21. مشرقی یوپی کرفیو میںیہ دھرتی کتنی سندر ہےFahmida Riaz (1946–2018)
  22. میں عازم مے خانہ تھی کل رات کہ دیکھااک کوچۂ پر شور میں اصحاب طریقتFahmida Riaz (1946–2018)
  23. یہ تو برزخ ہے یہاں وقت کی ایجاد کہاںاک برس تھا کہ مہینہ ہمیں اب یاد کہاںFahmida Riaz (1946–2018)
  24. آسماں تپتے ہوئے لوہے کی مانند سفیدریگ سوکھی ہوئی پیاسے کی زباں کی مانندFahmida Riaz (1946–2018)
  25. تم نے دیکھی ہے کبھی ایک زن خانہ بدوشجس کے خیمے سے پرے رات کی تاریکی میںFahmida Riaz (1946–2018)
  26. عشق آوارہ مزاجوہ مسافر تو گیاFahmida Riaz (1946–2018)
  27. لاؤ ہاتھ اپنا لاؤ ذراچھو کے میرا بدنFahmida Riaz (1946–2018)
  28. یہ جو تنہائی ہے شاید مری تنہائی نہ ہوگونجنا ہو نہ سماعت میں سکوتFahmida Riaz (1946–2018)
  29. یہیں تو کہیں پرتمہارے لبوں نےFahmida Riaz (1946–2018)
  30. آ مرے اندر آپوتر مہران کے پانیFahmida Riaz (1946–2018)
  31. اس گلی کے موڑ پر اک عزیز دوست نےمیرے اشک پونچھ کرFahmida Riaz (1946–2018)
  32. اسی اکیلے پہاڑ پر تو مجھے ملا تھایہی بلندی ہے وصل تیراFahmida Riaz (1946–2018)
  33. اقلیماجو ہابیل کی قابیل کی ماں جائی ہےFahmida Riaz (1946–2018)
  34. بڑی سہانی سی رات تھی وہہوا میں انجانی کھوئی کھوئی مہک رچی تھیFahmida Riaz (1946–2018)
  35. حضور میں اس سیاہ چادر کا کیا کروں گییہ آپ کیوں مجھ کو بخشتے ہیں بصد عنایتFahmida Riaz (1946–2018)
  36. خدائے ہر دوجہاں نے جب آدمی کو پہلے پہل سزا دیبہشت سے جب اسے نکالاFahmida Riaz (1946–2018)
  37. رن بھومی میں لڑتے لڑتے میں نے کتنے سالاک دن جل میں چھایا دیکھی چٹے ہو گئے بالFahmida Riaz (1946–2018)
  38. زبانوں کے رس میں یہ کیسی مہک ہے!یہ بوسہ کہ جس سے محبت کی صہبا کی اڑتی ہے خوشبوFahmida Riaz (1946–2018)
  39. کب تک مجھ سے پیار کرو گےکب تک؟Fahmida Riaz (1946–2018)
  40. یہ زرد موسم کے خشک پتےہوا جنہیں لے گئی اڑا کرFahmida Riaz (1946–2018)
  41. یہ کیسی لذت سے جسم شل ہو رہا ہے میرایہ کیا مزا ہے کہ جس سے ہے عضو عضو بوجھلFahmida Riaz (1946–2018)
  42. مری بے بسی مجھ پہ ظاہر ہے لیکنتمہاری تمنا تمہاری تمناFahmida Riaz (1946–2018)
  43. پھر لوٹ کے آیا ہوں تنہائی کے جنگل میںاک شہر تصور ہے احساس کے ہر پل میںChandrabhan Khayal (b. 1946)
  44. جستجو کے پاؤں اب آرام سا پانے لگےاب ہمارے پاس بھی کچھ راستے آنے لگےChandrabhan Khayal (b. 1946)
  45. چلچلاتی دھوپ سر پر اور تنہا آدمیآہ یہ خاموش پتھر اور تنہا آدمیChandrabhan Khayal (b. 1946)
  46. دولت حق مجھ کو حاصل ہو گئی ہےزندگی اب اور مشکل ہو گئی ہےChandrabhan Khayal (b. 1946)
  47. دیکھ ان چڑیوں کو چڑیا گھر نہ دیکھلوٹ مت پیچھے کو یوں مڑ کر نہ دیکھChandrabhan Khayal (b. 1946)
  48. زندگانی رنج اور غم کے سوا کچھ بھی نہیںاف کہ ہر دم سوگ و ماتم کے سوا کچھ بھی نہیںChandrabhan Khayal (b. 1946)
  49. سرد سناٹوں کی سب سرگوشیاں لے جاؤں گامیں جہاں بھی جاؤں گا دل کی زباں لے جاؤں گاChandrabhan Khayal (b. 1946)
  50. صرف اک حد نظر کو آسماں سمجھا تھا میںآسمانوں کی حقیقت کو کہاں سمجھا تھا میںChandrabhan Khayal (b. 1946)