خشک دریا میں اضطراب آئے
Zafar Hashmi (b. 1945)خشک دریا میں اضطراب آئے
سارے ساحل ہی زیر آب آئے
ان کو سمجھا گلاب صحرا میں
میری راہوں میں وہ سراب آئے
ان کے جانے سے شور تنہائی
ان کے آنے سے انقلاب آئے
بوجھ پلکوں پہ رکھ لیا ان کا
جو کہ خوابوں میں بے حساب آئے
لفظ و معنی کا توڑ دے رشتہ
پیش پھر بھی وہی کتاب آئے
میرے غم سے ہوا بھی آلودہ
یخ زدہ جائے شعلہ تاب آئے
سادہ پانی شراب لگتا ہے
جب کسی پر ظفرؔ شباب آئے