Poetry
Poet
Meter
- ہر حقیقت ہے ایک حسن حفیظؔاور ہر حسن اک حقیقت ہےHafeez Banarasi (1933–2008)
- انس تو ہوتا ہے دیوانے سے دیوانے کوکوئی اپنا کے دکھائے کبھی انجانے کوIbrat Bahraichi (1933–2021)
- بے ضمیروں کے کبھی جھانسے میں میں آتا نہیںمشکلوں کی بھیڑ سے ہرگز میں گھبراتا نہیںIbrat Bahraichi (1933–2021)
- تم سا گر راہ بر نہیں ہوتاکوئی بھی راہ پر نہیں ہوتاIbrat Bahraichi (1933–2021)
- چاہے صحرا میں چاہے گھر رہنازندگی سے قریب تر رہناIbrat Bahraichi (1933–2021)
- خیال بد سے ہمہ وقت اجتناب کروفضائے شہر کو دانستہ مت خراب کروIbrat Bahraichi (1933–2021)
- دل سے دل آج تک ملا ہی نہیںآدمی اس پہ سوچتا ہی نہیںIbrat Bahraichi (1933–2021)
- سکوں پرور ہے جذباتی نہیں ہےمرا ہمدم خرافاتی نہیں ہےIbrat Bahraichi (1933–2021)
- مرے ہی دل کو اپنا گھر سمجھنااسے تم تاج سے بہتر سمجھناIbrat Bahraichi (1933–2021)
- ایک نالہ بھی نہیں شکوۂ بیداد نہیںکیا ستم ہے کہ ہمیں کوئی ستم یاد نہیںRafeeq Pilibhiti (b. 1933)
- جنون و شوق کا یہ سلسلہ چلے نہ چلےہمارے بعد ہماری نوا چلے نہ چلےRafeeq Pilibhiti (b. 1933)
- خوگر حمد و ثنا قالب انسان میں آمنہ چھپائے گا تو کب تک میری پہچان میں آRafeeq Pilibhiti (b. 1933)
- درد بن جائے جو درماں تو غزل ہوتی ہےچارہ گر بھی لگے حیراں تو غزل ہوتی ہےRafeeq Pilibhiti (b. 1933)
- رہین عقل کو صحرا میں رہ گزر نہ ملیاماں جنوں کو تہ سایۂ شجر نہ ملیRafeeq Pilibhiti (b. 1933)
- صبا پھولوں سے کرتی ہے خطاب آہستہ آہستہاسے ملتی ہے خوشبو جواب آہستہ آہستہRafeeq Pilibhiti (b. 1933)
- مانگی ہے جان آپ نے ایمان لیجئےاب تو خدا کے واسطے پہچان لیجئےRafeeq Pilibhiti (b. 1933)
- ہر سمت گلستاں میں زنجیر نظر آئیپھولوں کی ہر اک ڈالی تقصیر نظر آئیRafeeq Pilibhiti (b. 1933)
- پیڑ احساس کا جذبات کا پھل دیتا ہےیہ شجر آج کا حاصل ہمیں کل دیتا ہےSaadullah Khan Asar Malkapur (b. 1933)
- رنگ و نام و نسل کے جھگڑے مٹا لیجے ذراہم گلے مل لیں گے یہ پردے اٹھا لیجے ذراSaadullah Khan Asar Malkapur (b. 1933)
- زرداروں کی وقعت کیا ہے کون یہ گوہر بانٹے گاحب اخوت مہر و محبت دل کا تونگر بانٹے گاSaadullah Khan Asar Malkapur (b. 1933)
- میں نے تم کو کیا سمجھا ہے ایسا تم نے سوچا کیاتم کیسے ہو تم کیا کیا ہو آئینہ بھی دیکھا کیاSaadullah Khan Asar Malkapur (b. 1933)
- اروشی آسماں سے آ جائےکوئی ارجن سا روپ دکھلائےVed Rahi (b. 1933)
- دل سے جب لو لگی نہیں ہوتیآنکھ بھی شبنمی نہیں ہوتیVed Rahi (b. 1933)
- شب کی تاریکی بڑھتی ہی جائےکون آتا ہے زلف بکھرائےVed Rahi (b. 1933)
- کچھ نہیں کھلتا ابتدا کیا ہےاس خرابات کی بنا کیا ہےVed Rahi (b. 1933)
- آنکھوں میں جل رہا ہے پہ بجھتا نہیں دھواںاٹھتا تو ہے گھٹا سا برستا نہیں دھواںGulzar (b. 1934)
- اوس پڑی تھی رات بہت اور کہرہ تھا گرمائش پرسیلی سی خاموشی میں آواز سنی فرمائش پرGulzar (b. 1934)
- ایسا خاموش تو منظر نہ فنا کا ہوتامیری تصویر بھی گرتی تو چھناکا ہوتاGulzar (b. 1934)
- ایک پرواز دکھائی دی ہےتیری آواز سنائی دی ہےGulzar (b. 1934)
- بیتے رشتے تلاش کرتی ہےخوشبو غنچے تلاش کرتی ہےGulzar (b. 1934)
- بے سبب مسکرا رہا ہے چاندکوئی سازش چھپا رہا ہے چاندGulzar (b. 1934)
- پھول نے ٹہنی سے اڑنے کی کوشش کیاک طائر کا دل رکھنے کی کوشش کیGulzar (b. 1934)
- پھولوں کی طرح لب کھول کبھیخوشبو کی زباں میں بول کبھیGulzar (b. 1934)
- پیڑ کے پتوں میں ہلچل ہے خبردار سے ہیںشام سے تیز ہوا چلنے کے آثار سے ہیںGulzar (b. 1934)
- تجھ کو دیکھا ہے جو دریا نے ادھر آتے ہوئےکچھ بھنور ڈوب گئے پانی میں چکراتے ہوئےGulzar (b. 1934)
- تنکا تنکا کانٹے توڑے ساری رات کٹائی کیکیوں اتنی لمبی ہوتی ہے چاندنی رات جدائی کیGulzar (b. 1934)
- جب بھی آنکھوں میں اشک بھر آئےلوگ کچھ ڈوبتے نظر آئےGulzar (b. 1934)
- جب بھی یہ دل اداس ہوتا ہےجانے کون آس پاس ہوتا ہےGulzar (b. 1934)
- خوشبو جیسے لوگ ملے افسانے میںایک پرانا خط کھولا انجانے میںGulzar (b. 1934)
- درد ہلکا ہے سانس بھاری ہےجئے جانے کی رسم جاری ہےGulzar (b. 1934)
- دکھائی دیتے ہیں دھند میں جیسے سائے کوئیمگر بلانے سے وقت لوٹے نہ آئے کوئیGulzar (b. 1934)
- دن کچھ ایسے گزارتا ہے کوئیجیسے احساں اتارتا ہے کوئیGulzar (b. 1934)
- ذکر آئے تو مرے لب سے دعائیں نکلیںشمع جلتی ہے تو لازم ہے شعاعیں نکلیںGulzar (b. 1934)
- ذکر ہوتا ہے جہاں بھی مرے افسانے کاایک دروازہ سا کھلتا ہے کتب خانے کاGulzar (b. 1934)
- رکے رکے سے قدم رک کے بار بار چلےقرار دے کے ترے در سے بے قرار چلےGulzar (b. 1934)
- زندگی یوں ہوئی بسر تنہاقافلہ ساتھ اور سفر تنہاGulzar (b. 1934)
- سہما سہما ڈرا سا رہتا ہےجانے کیوں جی بھرا سا رہتا ہےGulzar (b. 1934)
- شام سے آج سانس بھاری ہےبے قراری سی بے قراری ہےGulzar (b. 1934)
- شام سے آنکھ میں نمی سی ہےآج پھر آپ کی کمی سی ہےGulzar (b. 1934)
- صبر ہر بار اختیار کیاہم سے ہوتا نہیں ہزار کیاGulzar (b. 1934)