Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. ہر حقیقت ہے ایک حسن حفیظؔاور ہر حسن اک حقیقت ہےHafeez Banarasi (1933–2008)
  2. انس تو ہوتا ہے دیوانے سے دیوانے کوکوئی اپنا کے دکھائے کبھی انجانے کوIbrat Bahraichi (1933–2021)
  3. بے ضمیروں کے کبھی جھانسے میں میں آتا نہیںمشکلوں کی بھیڑ سے ہرگز میں گھبراتا نہیںIbrat Bahraichi (1933–2021)
  4. تم سا گر راہ بر نہیں ہوتاکوئی بھی راہ پر نہیں ہوتاIbrat Bahraichi (1933–2021)
  5. چاہے صحرا میں چاہے گھر رہنازندگی سے قریب تر رہناIbrat Bahraichi (1933–2021)
  6. خیال بد سے ہمہ وقت اجتناب کروفضائے شہر کو دانستہ مت خراب کروIbrat Bahraichi (1933–2021)
  7. دل سے دل آج تک ملا ہی نہیںآدمی اس پہ سوچتا ہی نہیںIbrat Bahraichi (1933–2021)
  8. سکوں پرور ہے جذباتی نہیں ہےمرا ہمدم خرافاتی نہیں ہےIbrat Bahraichi (1933–2021)
  9. مرے ہی دل کو اپنا گھر سمجھنااسے تم تاج سے بہتر سمجھناIbrat Bahraichi (1933–2021)
  10. ایک نالہ بھی نہیں شکوۂ بیداد نہیںکیا ستم ہے کہ ہمیں کوئی ستم یاد نہیںRafeeq Pilibhiti (b. 1933)
  11. جنون و شوق کا یہ سلسلہ چلے نہ چلےہمارے بعد ہماری نوا چلے نہ چلےRafeeq Pilibhiti (b. 1933)
  12. خوگر حمد و ثنا قالب انسان میں آمنہ چھپائے گا تو کب تک میری پہچان میں آRafeeq Pilibhiti (b. 1933)
  13. درد بن جائے جو درماں تو غزل ہوتی ہےچارہ گر بھی لگے حیراں تو غزل ہوتی ہےRafeeq Pilibhiti (b. 1933)
  14. رہین عقل کو صحرا میں رہ گزر نہ ملیاماں جنوں کو تہ سایۂ شجر نہ ملیRafeeq Pilibhiti (b. 1933)
  15. صبا پھولوں سے کرتی ہے خطاب آہستہ آہستہاسے ملتی ہے خوشبو جواب آہستہ آہستہRafeeq Pilibhiti (b. 1933)
  16. مانگی ہے جان آپ نے ایمان لیجئےاب تو خدا کے واسطے پہچان لیجئےRafeeq Pilibhiti (b. 1933)
  17. ہر سمت گلستاں میں زنجیر نظر آئیپھولوں کی ہر اک ڈالی تقصیر نظر آئیRafeeq Pilibhiti (b. 1933)
  18. پیڑ احساس کا جذبات کا پھل دیتا ہےیہ شجر آج کا حاصل ہمیں کل دیتا ہےSaadullah Khan Asar Malkapur (b. 1933)
  19. رنگ و نام و نسل کے جھگڑے مٹا لیجے ذراہم گلے مل لیں گے یہ پردے اٹھا لیجے ذراSaadullah Khan Asar Malkapur (b. 1933)
  20. زرداروں کی وقعت کیا ہے کون یہ گوہر بانٹے گاحب اخوت مہر و محبت دل کا تونگر بانٹے گاSaadullah Khan Asar Malkapur (b. 1933)
  21. میں نے تم کو کیا سمجھا ہے ایسا تم نے سوچا کیاتم کیسے ہو تم کیا کیا ہو آئینہ بھی دیکھا کیاSaadullah Khan Asar Malkapur (b. 1933)
  22. اروشی آسماں سے آ جائےکوئی ارجن سا روپ دکھلائےVed Rahi (b. 1933)
  23. دل سے جب لو لگی نہیں ہوتیآنکھ بھی شبنمی نہیں ہوتیVed Rahi (b. 1933)
  24. شب کی تاریکی بڑھتی ہی جائےکون آتا ہے زلف بکھرائےVed Rahi (b. 1933)
  25. کچھ نہیں کھلتا ابتدا کیا ہےاس خرابات کی بنا کیا ہےVed Rahi (b. 1933)
  26. آنکھوں میں جل رہا ہے پہ بجھتا نہیں دھواںاٹھتا تو ہے گھٹا سا برستا نہیں دھواںGulzar (b. 1934)
  27. اوس پڑی تھی رات بہت اور کہرہ تھا گرمائش پرسیلی سی خاموشی میں آواز سنی فرمائش پرGulzar (b. 1934)
  28. ایسا خاموش تو منظر نہ فنا کا ہوتامیری تصویر بھی گرتی تو چھناکا ہوتاGulzar (b. 1934)
  29. ایک پرواز دکھائی دی ہےتیری آواز سنائی دی ہےGulzar (b. 1934)
  30. بیتے رشتے تلاش کرتی ہےخوشبو غنچے تلاش کرتی ہےGulzar (b. 1934)
  31. بے سبب مسکرا رہا ہے چاندکوئی سازش چھپا رہا ہے چاندGulzar (b. 1934)
  32. پھول نے ٹہنی سے اڑنے کی کوشش کیاک طائر کا دل رکھنے کی کوشش کیGulzar (b. 1934)
  33. پھولوں کی طرح لب کھول کبھیخوشبو کی زباں میں بول کبھیGulzar (b. 1934)
  34. پیڑ کے پتوں میں ہلچل ہے خبردار سے ہیںشام سے تیز ہوا چلنے کے آثار سے ہیںGulzar (b. 1934)
  35. تجھ کو دیکھا ہے جو دریا نے ادھر آتے ہوئےکچھ بھنور ڈوب گئے پانی میں چکراتے ہوئےGulzar (b. 1934)
  36. تنکا تنکا کانٹے توڑے ساری رات کٹائی کیکیوں اتنی لمبی ہوتی ہے چاندنی رات جدائی کیGulzar (b. 1934)
  37. جب بھی آنکھوں میں اشک بھر آئےلوگ کچھ ڈوبتے نظر آئےGulzar (b. 1934)
  38. جب بھی یہ دل اداس ہوتا ہےجانے کون آس پاس ہوتا ہےGulzar (b. 1934)
  39. خوشبو جیسے لوگ ملے افسانے میںایک پرانا خط کھولا انجانے میںGulzar (b. 1934)
  40. درد ہلکا ہے سانس بھاری ہےجئے جانے کی رسم جاری ہےGulzar (b. 1934)
  41. دکھائی دیتے ہیں دھند میں جیسے سائے کوئیمگر بلانے سے وقت لوٹے نہ آئے کوئیGulzar (b. 1934)
  42. دن کچھ ایسے گزارتا ہے کوئیجیسے احساں اتارتا ہے کوئیGulzar (b. 1934)
  43. ذکر آئے تو مرے لب سے دعائیں نکلیںشمع جلتی ہے تو لازم ہے شعاعیں نکلیںGulzar (b. 1934)
  44. ذکر ہوتا ہے جہاں بھی مرے افسانے کاایک دروازہ سا کھلتا ہے کتب خانے کاGulzar (b. 1934)
  45. رکے رکے سے قدم رک کے بار بار چلےقرار دے کے ترے در سے بے قرار چلےGulzar (b. 1934)
  46. زندگی یوں ہوئی بسر تنہاقافلہ ساتھ اور سفر تنہاGulzar (b. 1934)
  47. سہما سہما ڈرا سا رہتا ہےجانے کیوں جی بھرا سا رہتا ہےGulzar (b. 1934)
  48. شام سے آج سانس بھاری ہےبے قراری سی بے قراری ہےGulzar (b. 1934)
  49. شام سے آنکھ میں نمی سی ہےآج پھر آپ کی کمی سی ہےGulzar (b. 1934)
  50. صبر ہر بار اختیار کیاہم سے ہوتا نہیں ہزار کیاGulzar (b. 1934)