جنون و شوق کا یہ سلسلہ چلے نہ چلے

Rafeeq Pilibhiti (b. 1933)

جنون و شوق کا یہ سلسلہ چلے نہ چلے

ہمارے بعد ہماری نوا چلے نہ چلے

ہمارے عشق میں پھر حوصلہ رہے نہ رہے

پھر اتنے جوش میں موج بلا چلے نہ چلے

تمہاری یاد سے خوشبو اٹھے گی ہر پہلو

چراغ جلتا رہے گا ہوا چلے نہ چلے

گماں بھی گزرا جو دل میں تو ڈر سا لگتا ہے

ستم کے دور میں رسم وفا چلے نہ چلے

رہے گا ساتھ میں سایہ قدم قدم چاہے

ہمارے ساتھ کوئی آشنا چلے نہ چلے

جھکی نگاہ کا جادو تو چل ہی جائے گا

رفیقؔ آپ کا شکوہ گلہ چلے نہ چلے