Poetry
Poet
Meter
- کانچ کے پیچھے چاند بھی تھا اور کانچ کے اوپر کائی بھیتینوں تھے ہم وہ بھی تھے اور میں بھی تھا تنہائی بھیGulzar (b. 1934)
- کوئی اٹکا ہوا ہے پل شایدوقت میں پڑ گیا ہے بل شایدGulzar (b. 1934)
- کوئی خاموش زخم لگتی ہےزندگی ایک نظم لگتی ہےGulzar (b. 1934)
- کہیں تو گرد اڑے یا کہیں غبار دکھےکہیں سے آتا ہوا کوئی شہسوار دکھےGulzar (b. 1934)
- کھلی کتاب کے صفحے الٹتے رہتے ہیںہوا چلے نہ چلے دن پلٹتے رہتے ہیںGulzar (b. 1934)
- گرم لاشیں گریں فصیلوں سےآسماں بھر گیا ہے چیلوں سےGulzar (b. 1934)
- گلوں کو سننا ذرا تم صدائیں بھیجی ہیںگلوں کے ہاتھ بہت سی دعائیں بھیجی ہیںGulzar (b. 1934)
- مجھے اندھیرے میں بے شک بٹھا دیا ہوتامگر چراغ کی صورت جلا دیا ہوتاGulzar (b. 1934)
- وہ خط کے پرزے اڑا رہا تھاہواؤں کا رخ دکھا رہا تھاGulzar (b. 1934)
- ہاتھ چھوٹیں بھی تو رشتے نہیں چھوڑا کرتےوقت کی شاخ سے لمحے نہیں توڑا کرتےGulzar (b. 1934)
- ہر ایک غم نچوڑ کے ہر اک برس جیےدو دن کی زندگی میں ہزاروں برس جیےGulzar (b. 1934)
- ہم تو کتنوں کو مہ جبیں کہتےآپ ہیں اس لیے نہیں کہتےGulzar (b. 1934)
- ہوا کے سینگ نہ پکڑو کھدیڑ دیتی ہےزمیں سے پیڑوں کے ٹانکے ادھیڑ دیتی ہےGulzar (b. 1934)
- آدمی بلبلہ ہے پانی کااور پانی کی بہتی سطح پرGulzar (b. 1934)
- اپنی مرضی سے تو مذہب بھی نہیں اس نے چنا تھااس کا مذہب تھا جو ماں باپ سے ہی اس نے وراثت میں لیا تھاGulzar (b. 1934)
- ایک پشیمانی رہتی ہےالجھن اور گرانی بھیGulzar (b. 1934)
- ایک ہی خواب کئی بار یوں ہی دیکھا میں نےتو نے ساڑی میں اڑس لی ہیں مری چابیاں گھر کیGulzar (b. 1934)
- برف پگھلے گی جب پہاڑوں سےاور وادی سے کہرا سمٹے گاGulzar (b. 1934)
- پورے کا پورا آکاش گھما کر بازی دیکھی میں نے!کالے گھر میں سورج رکھ کےGulzar (b. 1934)
- پومپیئے دفن تھا صدیوں سے جہاںایک تہذیب تھی پوشیدہ وہاںGulzar (b. 1934)
- تمہارے ہونٹوں کی ٹھنڈی ٹھنڈی تلاوتیںجھک کے میری آنکھوں کو چھو رہی ہیںGulzar (b. 1934)
- جی میں آتا ہے کہ اس کان سے سوراخ کروںکھینچ کر دوسری جانب سے نکالوں اس کوGulzar (b. 1934)
- چار تنکے اٹھا کے جنگل سےایک بالی اناج کی لے کرGulzar (b. 1934)
- چاند کیوں ابر کی اس میلی سی گٹھری میں چھپا تھااس کے چھپتے ہی اندھیروں کے نکل آئے تھے ناخنGulzar (b. 1934)
- دل میں ایسے ٹھہر گئے ہیں غمجیسے جنگل میں شام کے سائےGulzar (b. 1934)
- دو سوندھے سوندھے سے جسم جس وقتایک مٹھی میں سو رہے تھےGulzar (b. 1934)
- دھندلائی ہوئی شام تھیالسائی ہوئی سیGulzar (b. 1934)
- دھوپ لگے آکاش پہ جبدن میں چاند نظر آیا تھاGulzar (b. 1934)
- دیکھو آہستہ چلو اور بھی آہستہ ذرادیکھنا سوچ سنبھل کر ذرا پاؤں رکھناGulzar (b. 1934)
- رات بھر سرد ہوا چلتی رہیرات بھر ہم نے الاؤ تاپاGulzar (b. 1934)
- رات چپ چاپ دبے پاؤں چلے جاتی ہےرات خاموش ہے روتی نہیں ہنستی بھی نہیںGulzar (b. 1934)
- رات کل گہری نیند میں تھی جبایک تازہ سفید کینوس پرGulzar (b. 1934)
- روح دیکھی ہے؟کبھی روح کو محسوس کیا ہے؟Gulzar (b. 1934)
- سانس لینا بھی کیسی عادت ہےجئے جانا بھی کیا روایت ہےGulzar (b. 1934)
- کس قدر سیدھا، سہل، صاف ہے رستہ دیکھونہ کسی شاخ کا سایہ ہے، نہ دیوار کی ٹیکGulzar (b. 1934)
- کندھے جھک جاتے ہیں جب بوجھ سے اس لمبے سفر کےہانپ جاتا ہوں میں جب چڑھتے ہوئے تیز چڑھانیںGulzar (b. 1934)
- لکڑی کی کاٹھی کاٹھی پہ گھوڑاگھوڑے کی دم پہ جو مارا ہتھوڑاGulzar (b. 1934)
- مجھ کو بھی ترکیب سکھا کوئی یار جلاہےاکثر تجھ کو دیکھا ہے کہ تانا بنتےGulzar (b. 1934)
- میں کائنات میں سیاروں میں بھٹکتا تھادھوئیں میں دھول میں الجھی ہوئی کرن کی طرحGulzar (b. 1934)
- نظم الجھی ہوئی ہے سینے میںمصرعے اٹکے ہوئے ہیں ہونٹوں پرGulzar (b. 1934)
- وقت کو آتے نہ جاتے نہ گزرتے دیکھانہ اترتے ہوئے دیکھا کبھی الہام کی صورتGulzar (b. 1934)
- وہ جو شاعر تھا، چپ سا رہتا تھابہکی بہکی سی باتیں کرتا تھاGulzar (b. 1934)
- یاد ہے اک دنمیری میز پہ بیٹھے بیٹھےGulzar (b. 1934)
- ٹکڑا اک نظم کادن بھر میری سانسوں میں سرکتا ہی رہاGulzar (b. 1934)
- کتابیں جھانکتی ہیں بند الماری کے شیشوں سےبڑی حسرت سے تکتی ہیںGulzar (b. 1934)
- میرے کپڑوں میں ٹنگا ہےتیرا خوش رنگ لباس!Gulzar (b. 1934)
- آٹھ ہی بلین عمر زمیں کی ہوگی شایدایسا ہی اندازہ ہے کچھ سائنس کاGulzar (b. 1934)
- اک اداکار ہوں میںمیں اداکار ہوں ناںGulzar (b. 1934)
- بارش ہوتی ہے تو پانی کو بھی لگ جاتے ہیں پاؤںدر و دیوار سے ٹکرا کے گزرتا ہے گلی سےGulzar (b. 1934)
- بس اک لمحہ کا جھگڑا تھادر و دیوار پر ایسے چھناکے سے گری آواز جیسے کانچ گرتا ہےGulzar (b. 1934)