Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. کانچ کے پیچھے چاند بھی تھا اور کانچ کے اوپر کائی بھیتینوں تھے ہم وہ بھی تھے اور میں بھی تھا تنہائی بھیGulzar (b. 1934)
  2. کوئی اٹکا ہوا ہے پل شایدوقت میں پڑ گیا ہے بل شایدGulzar (b. 1934)
  3. کوئی خاموش زخم لگتی ہےزندگی ایک نظم لگتی ہےGulzar (b. 1934)
  4. کہیں تو گرد اڑے یا کہیں غبار دکھےکہیں سے آتا ہوا کوئی شہسوار دکھےGulzar (b. 1934)
  5. کھلی کتاب کے صفحے الٹتے رہتے ہیںہوا چلے نہ چلے دن پلٹتے رہتے ہیںGulzar (b. 1934)
  6. گرم لاشیں گریں فصیلوں سےآسماں بھر گیا ہے چیلوں سےGulzar (b. 1934)
  7. گلوں کو سننا ذرا تم صدائیں بھیجی ہیںگلوں کے ہاتھ بہت سی دعائیں بھیجی ہیںGulzar (b. 1934)
  8. مجھے اندھیرے میں بے شک بٹھا دیا ہوتامگر چراغ کی صورت جلا دیا ہوتاGulzar (b. 1934)
  9. وہ خط کے پرزے اڑا رہا تھاہواؤں کا رخ دکھا رہا تھاGulzar (b. 1934)
  10. ہاتھ چھوٹیں بھی تو رشتے نہیں چھوڑا کرتےوقت کی شاخ سے لمحے نہیں توڑا کرتےGulzar (b. 1934)
  11. ہر ایک غم نچوڑ کے ہر اک برس جیےدو دن کی زندگی میں ہزاروں برس جیےGulzar (b. 1934)
  12. ہم تو کتنوں کو مہ جبیں کہتےآپ ہیں اس لیے نہیں کہتےGulzar (b. 1934)
  13. ہوا کے سینگ نہ پکڑو کھدیڑ دیتی ہےزمیں سے پیڑوں کے ٹانکے ادھیڑ دیتی ہےGulzar (b. 1934)
  14. آدمی بلبلہ ہے پانی کااور پانی کی بہتی سطح پرGulzar (b. 1934)
  15. اپنی مرضی سے تو مذہب بھی نہیں اس نے چنا تھااس کا مذہب تھا جو ماں باپ سے ہی اس نے وراثت میں لیا تھاGulzar (b. 1934)
  16. ایک پشیمانی رہتی ہےالجھن اور گرانی بھیGulzar (b. 1934)
  17. ایک ہی خواب کئی بار یوں ہی دیکھا میں نےتو نے ساڑی میں اڑس لی ہیں مری چابیاں گھر کیGulzar (b. 1934)
  18. برف پگھلے گی جب پہاڑوں سےاور وادی سے کہرا سمٹے گاGulzar (b. 1934)
  19. پورے کا پورا آکاش گھما کر بازی دیکھی میں نے!کالے گھر میں سورج رکھ کےGulzar (b. 1934)
  20. پومپیئے دفن تھا صدیوں سے جہاںایک تہذیب تھی پوشیدہ وہاںGulzar (b. 1934)
  21. تمہارے ہونٹوں کی ٹھنڈی ٹھنڈی تلاوتیںجھک کے میری آنکھوں کو چھو رہی ہیںGulzar (b. 1934)
  22. جی میں آتا ہے کہ اس کان سے سوراخ کروںکھینچ کر دوسری جانب سے نکالوں اس کوGulzar (b. 1934)
  23. چار تنکے اٹھا کے جنگل سےایک بالی اناج کی لے کرGulzar (b. 1934)
  24. چاند کیوں ابر کی اس میلی سی گٹھری میں چھپا تھااس کے چھپتے ہی اندھیروں کے نکل آئے تھے ناخنGulzar (b. 1934)
  25. دل میں ایسے ٹھہر گئے ہیں غمجیسے جنگل میں شام کے سائےGulzar (b. 1934)
  26. دو سوندھے سوندھے سے جسم جس وقتایک مٹھی میں سو رہے تھےGulzar (b. 1934)
  27. دھندلائی ہوئی شام تھیالسائی ہوئی سیGulzar (b. 1934)
  28. دھوپ لگے آکاش پہ جبدن میں چاند نظر آیا تھاGulzar (b. 1934)
  29. دیکھو آہستہ چلو اور بھی آہستہ ذرادیکھنا سوچ سنبھل کر ذرا پاؤں رکھناGulzar (b. 1934)
  30. رات بھر سرد ہوا چلتی رہیرات بھر ہم نے الاؤ تاپاGulzar (b. 1934)
  31. رات چپ چاپ دبے پاؤں چلے جاتی ہےرات خاموش ہے روتی نہیں ہنستی بھی نہیںGulzar (b. 1934)
  32. رات کل گہری نیند میں تھی جبایک تازہ سفید کینوس پرGulzar (b. 1934)
  33. روح دیکھی ہے؟کبھی روح کو محسوس کیا ہے؟Gulzar (b. 1934)
  34. سانس لینا بھی کیسی عادت ہےجئے جانا بھی کیا روایت ہےGulzar (b. 1934)
  35. کس قدر سیدھا، سہل، صاف ہے رستہ دیکھونہ کسی شاخ کا سایہ ہے، نہ دیوار کی ٹیکGulzar (b. 1934)
  36. کندھے جھک جاتے ہیں جب بوجھ سے اس لمبے سفر کےہانپ جاتا ہوں میں جب چڑھتے ہوئے تیز چڑھانیںGulzar (b. 1934)
  37. لکڑی کی کاٹھی کاٹھی پہ گھوڑاگھوڑے کی دم پہ جو مارا ہتھوڑاGulzar (b. 1934)
  38. مجھ کو بھی ترکیب سکھا کوئی یار جلاہےاکثر تجھ کو دیکھا ہے کہ تانا بنتےGulzar (b. 1934)
  39. میں کائنات میں سیاروں میں بھٹکتا تھادھوئیں میں دھول میں الجھی ہوئی کرن کی طرحGulzar (b. 1934)
  40. نظم الجھی ہوئی ہے سینے میںمصرعے اٹکے ہوئے ہیں ہونٹوں پرGulzar (b. 1934)
  41. وقت کو آتے نہ جاتے نہ گزرتے دیکھانہ اترتے ہوئے دیکھا کبھی الہام کی صورتGulzar (b. 1934)
  42. وہ جو شاعر تھا، چپ سا رہتا تھابہکی بہکی سی باتیں کرتا تھاGulzar (b. 1934)
  43. یاد ہے اک دنمیری میز پہ بیٹھے بیٹھےGulzar (b. 1934)
  44. ٹکڑا اک نظم کادن بھر میری سانسوں میں سرکتا ہی رہاGulzar (b. 1934)
  45. کتابیں جھانکتی ہیں بند الماری کے شیشوں سےبڑی حسرت سے تکتی ہیںGulzar (b. 1934)
  46. میرے کپڑوں میں ٹنگا ہےتیرا خوش رنگ لباس!Gulzar (b. 1934)
  47. آٹھ ہی بلین عمر زمیں کی ہوگی شایدایسا ہی اندازہ ہے کچھ سائنس کاGulzar (b. 1934)
  48. اک اداکار ہوں میںمیں اداکار ہوں ناںGulzar (b. 1934)
  49. بارش ہوتی ہے تو پانی کو بھی لگ جاتے ہیں پاؤںدر و دیوار سے ٹکرا کے گزرتا ہے گلی سےGulzar (b. 1934)
  50. بس اک لمحہ کا جھگڑا تھادر و دیوار پر ایسے چھناکے سے گری آواز جیسے کانچ گرتا ہےGulzar (b. 1934)