رہین عقل کو صحرا میں رہ گزر نہ ملی

Rafeeq Pilibhiti (b. 1933)

رہین عقل کو صحرا میں رہ گزر نہ ملی

اماں جنوں کو تہ سایۂ شجر نہ ملی

لئے غموں کو بڑھی جا رہی ہے ظلمت میں

کہاں رکے گی شب ہجر گر سحر نہ ملی

نظر جھکا کے جو دیکھا ہے دل کا آئینہ

خود اپنے آپ سے اکثر مری نظر نہ ملی

ہزار موتی پٹکتی ہے موج ساحل پر

گہر کی آبرو اس کو کبھی مگر نہ ملی

نگاہ قیس نے لیلیٰ میں پا لیا جلوہ

رفیقؔ کو رخ تاباں میں بھی سحر نہ ملی