دل سے دل آج تک ملا ہی نہیں

Ibrat Bahraichi (1933–2021)

دل سے دل آج تک ملا ہی نہیں

آدمی اس پہ سوچتا ہی نہیں

چہرہ چہرہ بحال لگتا ہے

شہر میں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں

جو غریبوں پہ ہو رہے ہیں ستم

آج تک اس کا تذکرہ ہی نہیں

روغن تلخ سے جو پیدا ہے

اس مرض کی کوئی دوا ہی نہیں

پیہم حملوں سے برق تاباں کے

آشیاں کوئی بھی بچا ہی نہیں

قتل کر کے چلا گیا قاتل

در سے اپنے کوئی ہلا ہی نہیں

روز کے حادثوں سے اے عبرتؔ

زندگی میں کوئی مزہ ہی نہیں