رنگ و نام و نسل کے جھگڑے مٹا لیجے ذرا

Saadullah Khan Asar Malkapur (b. 1933)

رنگ و نام و نسل کے جھگڑے مٹا لیجے ذرا

ہم گلے مل لیں گے یہ پردے اٹھا لیجے ذرا

زلف کی رخسار کی سننے کو تب جی چاہے گا

آئنہ آپ اپنے چہرے کو دکھا لیجے ذرا

گل کی بلبل کی بہاروں کی چمن کی پھر کبھی

اجڑے اجڑے آشیاں پہلے بسا لیجے ذرا

انگلیاں پھر میری جانب شوق سے لینا اٹھا

اپنے دامن پر لگے دھبے مٹا لیجے ذرا

آپ کی ادنیٰ دعاؤں میں بھی آئے گا اثرؔ

دونوں ہاتھوں کو عقیدت سے اٹھا لیجے ذرا