صبا پھولوں سے کرتی ہے خطاب آہستہ آہستہ
Rafeeq Pilibhiti (b. 1933)صبا پھولوں سے کرتی ہے خطاب آہستہ آہستہ
اسے ملتی ہے خوشبو جواب آہستہ آہستہ
خدارا آئیے تکمیل خلوت ہونے والی ہے
دھڑکتا ہے دل خانہ خراب آہستہ آہستہ
بھنور کا ڈر ہے اب کوئی نہ ساحل کی تمنا ہے
سفینہ جا رہا ہے زیر آب آہستہ آہستہ
بہار آئی ہے پھر غنچہ بہ غنچہ میرے گلشن میں
خزاں کو مل گیا آخر جواب آہستہ آہستہ
رفیقؔ آنکھیں نہیں کھلتی ہیں میری ان شعاعوں میں
اجالوں سے کہو توڑیں حجاب آہستہ آہستہ