زرداروں کی وقعت کیا ہے کون یہ گوہر بانٹے گا
Saadullah Khan Asar Malkapur (b. 1933)زرداروں کی وقعت کیا ہے کون یہ گوہر بانٹے گا
حب اخوت مہر و محبت دل کا تونگر بانٹے گا
میں نے ان دیکھے پر اپنا سب کچھ قرباں کر ڈالا
تو اے برہمن کیا کر بیٹھا تو کیا پتھر بانٹے گا
اپنے منہ سے اپنے گھر کی بات کہو نادانی ہے
ایک ہی ماں کا جایا ہو کر کہتا ہے گھر بانٹے گا
جھوٹ کپٹ چھل بے ایمانی چندہ رشوت لوٹ کھسوٹ
جس کی سیاست ایسی ہوگی کیا وہ لیڈر بانٹے گا
بے مہروں کے شہر میں آخر کس سے یہ امید کریں
اس دنیا میں کون اثرؔ کے درد برابر بانٹے گا