Poetry
Hazaj Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf
ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف- میرا دل ناشاد جو ناشاد رہے گاعالم دل برباد کا برباد رہے گافرحت کانپوری
- اس کو میں ہوئے ہم وہ لب بام نہ آیااے جذبۂ دل تو بھی کسی کام نہ آیامیر تسکین دہلوی
- باشندے حقیقت میں ہیں ہم ملک بقا کےکچھ روز سے میہمان ہیں اس دار فنا کےمردان علی خاں رانا
- تیغ نگہ دیدۂ خوں خار نکالیکیوں آپ نے عشاق پہ تلوار نکالیمردان علی خاں رانا
- اک کافر مغرور دل آرام ہے میراکہتے ہیں جسے کفر وہ اسلام ہے میراNabi Bakhsh Nayab
- وحشی ہوں میں کیا شے ہے بیاباں مرے آگےمجنوں ہوں میں کیا جیب و گریباں مرے آگےNabi Bakhsh Nayab
- بیگانۂ منزل وہ نہیں راہ گزر میںجس کے لئے آرام ہے آلام سفر میںNadim Balkhi
- دیکھی ہے جو پت جھڑ کی فضا سوچ رہا ہوںانجام یہی ہوگا مرا سوچ رہا ہوںNadim Balkhi
- وہ عشق کی مخصوص ادا کو نہیں سمجھانادان ابھی خوئے وفا کو نہیں سمجھاZaheer Abbas Saer
- اس ٹوٹے ہوئے دل کا سہارا ہے ترا غمہمدرد حقیقت میں ہمارا ہے ترا غمGhamgeen Qureshi
- کیا پوچھ رہے ہو دل بیمار کی باتیںکمبخت سمجھتا ہی نہیں پیار کی باتیںGhamgeen Qureshi
- مانند ہوا پل میں گزر جائے گا کوئیآئے نہ اگر آپ تو مر جائے گا کوئیGhamgeen Qureshi
- جس کا مجھے ارماں ہے وہ اکثر نہیں ملتامیں ہوش میں ہوں اور مجھے گھر نہیں ملتاHabeeb Jaunpuri
- یہ شان وفا غم کی حکایت سے ملی ہےدولت مجھے یہ درد محبت سے ملی ہےHabeeb Jaunpuri
- آنکھوں میں مری پھرتی ہے تصویر کسی کیتصویر میں ہوں میری ہے تصویر کسی کیمردان صفی
- اے رشک قمر آگے ترے شمس و قمر کیاسو جاں سے فدا ہوں میں یہ ہے جان و جگر کیامردان صفی
- ہاں ان سے مری طرز ملاقات الگ ہےیہ درد یہ سوزش یہ خلش اور یہ آنسوNadim Ashrafi Burhanpuri
- کیفیت دل اور ہے احوال جگر اوراک درد کی صورت ہے ادھر اور ادھر اورعنایت اللہ روشن بدایونی
- ہر ایک کا حامی وہ مصیبت میں ہوا ہےجس کا کوئی دنیا میں نہیں اس کا خدا ہےعنایت اللہ روشن بدایونی
- عاشق کے لیے ہجر کا آزار کہاں تکدکھ سہتا رہے آپ کا بیمار کہاں تکسید ہمایوں میرزا حقیر
- مشربم حسن لطیفی
- نزدیک سی شے سایۂ حائل سے بہت دورمنزل ہے شناسائی منزل سے بہت دورم حسن لطیفی
- حالت مری جب اس کو دگر گوں نظر آئیاوروں کی تو کیا چشم مسیحا کی بھر آئیمیر مظفر حسین ضمیر
- صدمے سے شب ہجر کے کب جان بر آئییہ شام نہیں آئی قضا ہی مگر آئیمیر مظفر حسین ضمیر
- ایسا تو یہاں کچھ بھی نہیں حد نظر تکہم کو تو پہنچنا تھا کسی خواب نگر تکNaeem Sameer
- اب دور تلک یاد کا صحرا ہے نظر میںکچھ روز تو رہنا ہے اسی راہ گزر میںQaisar Abbas
- تم وقت سحر روزن دیوار میں دیکھولالی سی کہیں صبح کے آثار میں دیکھوQaisar Abbas
- خوابوں کا گزر دیدۂ بیدار سے ہوگاخوشبو کا سفر ہر در و دیوار سے ہوگاQaisar Abbas
- خوش رنگ ہے گل سے گل رخسار تمہاراریحاں سے سوا خط ہے نمودار تمہاراRadhe Shiyam Rastogi Ahqar
- جب خواہش دنیا سے کوئی کام نہیں ہےکیوں پھر دل شوریدہ کو آرام نہیں ہےRafat Shameem
- ہر چیز میں عکس رخ زیبا نظر آیاعالم مجھے سب جلوہ ہی جلوہ نظر آیاعزیز الحسن غوری
- پاتا نہیں ہوں اور کسی کام سے لذتجو کچھ کہ میں پاتا ہوں ترے نام سے لذتآفتاب شاہ عالم ثانی
- عاجز ہوں ترے ہاتھ سے کیا کام کروں میںکر چاک گریباں تجھے بدنام کروں میںآفتاب شاہ عالم ثانی
- گو سدھ نہیں اس شوخ ستم گر نے سنبھالیتس پر بھی کوئی بات ادا سے نہیں خالیآفتاب شاہ عالم ثانی
- رہتا ہے ہمیشہ جو مری یار بغل میںجلتے ہیں اسے دیکھ کے اغیار بغل میںہاجر دہلوی
- آداب جنوں اہل نظر بھول گئے ہیںجیتے تو ہیں جینے کا ہنر بھول گئے ہیںJalal Aarif
- منظور نظر ہے دل غم خوار تمہاراجو یار ہمارا ہے وہی یار تمہاراجگر بسوانی
- دیوانوں میں ذکر دل دیوانہ رہے گاجگر بسوانی
- جی بھر کے کبھی یار کا جلوہ نہیں دیکھادیکھا بھی تو اس طرح کہ گویا نہیں دیکھاجگر بسوانی
- کیوں ہو نہ ہمیں عشق صنم اور زیادہدیتا ہے مزہ عشق کا غم اور زیادہنواب امراوبہادر دلیر
- انداز کہیں دیکھا ہے مستانہ کسی کاشیدا ہی ہوا پھر دل دیوانہ کسی کانواب امراوبہادر دلیر
- ہم رند خرابات کو اچھا نہ برا یادساقی کا کہا یاد نہ واعظ کا کہا یادParmod Lal Yakta
- اس دور میں ایسا کوئی انسان نہیں ہےجو سوزش پنہاں سے پریشان نہیں ہےRafeeq Anjum
- منصف ہو بھلا حکم سنا کیوں نہیں دیتےمجرم ہوں اگر میں تو سزا کیوں نہیں دیتےRafeeq Anjum
- رنجش تری ہر دم کی گوارا نہ کریں گےاب اور ہی معشوق سے یارانہ کریں گےشیخ علی بخش بیمار
- میں اور ہم آغوش ہوں اس رشک پری سےکب اس کی توقع مجھے بے بال و پری سےرنجور عظیم آبادی
- کس روز الٰہی وہ مرا یار ملے گاایسا بھی کبھی ہوگا کہ دل دار ملے گاشیر محمد خاں ایمان
- آساں ہے کسی نہر کا پتھر سے نکلناآساں نہیں ان کا دل مضطر سے نکلناUma Shankar Shadan Gwaliori
- کعبے کا پتہ اور کلیسا کا نشاں اوریہ کیا کہ وہی بات یہاں اور وہاں اورUma Shankar Shadan Gwaliori
- کہرا ہے کہ دھندھلا سا سپن اوڑھ رکھا ہےاس بھور نے کیا ننگے بدن اوڑھ رکھا ہےVijay kumar Swarnkar