اک کافر مغرور دل آرام ہے میرا

Nabi Bakhsh Nayab

اک کافر مغرور دل آرام ہے میرا

کہتے ہیں جسے کفر وہ اسلام ہے میرا

کانٹوں پہ لٹایا جو مجھے میری خطا کیا

ڈر حق سے کہ کہلاتا تو گلفام ہے میرا

ایواں سے مرے تخت اٹھا لیجئے جلدی

مٹی ہی میں مل جانا گر انجام ہے میرا

کیسی ہے چمک میرے سیہ خانۂ دل میں

شاید کہ یہاں بستا خوش اندام ہے میرا

میں تڑپوں تو آرام سے بیٹھو گے نہ تم بھی

نایابؔ رہے یاد تمہیں نام ہے میرا