کعبے کا پتہ اور کلیسا کا نشاں اور
Uma Shankar Shadan Gwalioriکعبے کا پتہ اور کلیسا کا نشاں اور
یہ کیا کہ وہی بات یہاں اور وہاں اور
ماتھے پہ بڑھا لیجئے جھومر کے نشاں اور
بن جائے گی گردوں کے لئے کاہکشاں اور
پایا تھا ہمارے ہی دل زار کا ٹکڑا
آئینہ بنایا تھا سکندر نے کہاں اور
میں نے نہ بنایا کبھی ممتاز کا روضہ
تھی میری خلش اور غم شاہ جہاں اور
جاری رہے سرگرمیٔ الفاظ و معانی
ہاں سوز بیاں سوز بیاں سوز بیاں اور
شاداںؔ کبھی دیکھے تو تڑپ جائے زمانہ
ہوتے ہیں غم دل کی صلیبوں کے نشاں اور