کیوں ہو نہ ہمیں عشق صنم اور زیادہ
نواب امراوبہادر دلیرکیوں ہو نہ ہمیں عشق صنم اور زیادہ
دیتا ہے مزہ عشق کا غم اور زیادہ
دل تو عوض بوسہ دیا تم نے جگر بھی
لی مفت میں یہ ایک رقم اور زیادہ
لکھتا ہوں تجھے تیری رکاوٹ کا جو شکوہ
چلتا ہے مرا رک کے قلم اور زیادہ
دیتا ہوں تری شوخ نگاہوں سے ہی تشبیہ
رم کرتے ہیں آہوئے حرم اور زیادہ
پسپا نہ ہوا قیس سے میدان وفا میں
بڑھتا ہی رہا اپنا قدم اور زیادہ
ہو جاتے ہیں جب ہم سے کشیدہ ترے ابرو
کھینچتی ہے تری تیغ دو دم اور زیادہ
ہوتا ہوں دلیرؔ ان سے جو میں لطف کا خواہاں
وہ کرتے ہیں رہ رہ کے ستم اور زیادہ