کہرا ہے کہ دھندھلا سا سپن اوڑھ رکھا ہے
Vijay kumar Swarnkarکہرا ہے کہ دھندھلا سا سپن اوڑھ رکھا ہے
اس بھور نے کیا ننگے بدن اوڑھ رکھا ہے
آ چھت پہ کہ کھینچیں کوئی اپنے لیے کونا
آ صرف ستاروں نے گگن اوڑھ رکھا ہے
کیا بات ہے کیوں دھوپ نے منہ ڈھانپ لیا اور
آکاش نے برسا ہوا گھن اوڑھ رکھا ہے
دھن کیا ہے تمہیں بوجھ کے لگتا ہے کچھ ایسا
جیسے کسی نغمے نے بھجن اوڑھ رکھا ہے
لاشوں کی ہے یہ بھیڑ ذرا غور سے دیکھو
زندہ کئی لوگوں نے کفن اوڑھ رکھا ہے
اے سرد ہواؤ اسے چادر نہ سمجھنا
فٹ پاتھ نے مفلس کا بدن اوڑھ رکھا ہے