آداب جنوں اہل نظر بھول گئے ہیں

Jalal Aarif

آداب جنوں اہل نظر بھول گئے ہیں

جیتے تو ہیں جینے کا ہنر بھول گئے ہیں

کیا اہل سفر ذوق سفر بھول گئے ہیں

رستے میں ہیں منزل کی خبر بھول گئے ہیں

غم بھول گئے غم کا اثر بھول گئے ہیں

تم کیا ملے ہم خود کو مگر بھول گئے ہیں

ہجرت کے عذابوں میں بسر ایسی ہوئی ہے

اک عمر سے ہم اپنا نگر بھول گئے ہیں

دنیا کے غم اپنوں کے ستم وقت کے تیور

کیا کیا نہ مرے دیدۂ تر بھول گئے ہیں

طوفاں پہ ہی رکھتے ہیں نظر اہل زمانہ

موجوں کی سیاست کو مگر بھول گئے ہیں

وہ گرمیٔ حالات نہ ذہنوں میں وہ ہلچل

کیا حادثے آنا ہی ادھر بھول گئے ہیں

کیا بات تھی قاتل سے جو منسوب ہوئی تھی

مقتل میں جھکائے ہوئے سر بھول گئے ہیں

گلشن کی فضاؤں میں گھٹن آ گئی کتنی

ہنسنے کی ادا تک گل تر بھول گئے ہیں

جو ڈال رہے تھے کبھی سورج پہ کمندیں

وہ لوگ اجالوں کا سفر بھول گئے ہیں

آغاز سفر اپنا کیا ہم نے جہاں سے

ہم رکھ کے وہیں زاد سفر بھول گئے ہیں

تم اگلی شرافت کا سبق پھر سے پڑھانا

اس دور کے انسان اگر بھول گئے ہیں

عارفؔ میں گلہ کس سے کروں بے اثری کا

طالع ہی مرے باب اثر بھول گئے ہیں