Poetry
Bahr-e Hindi Mutaqarib Musamman Muza'af
بحرِ ہندی/ متقارب مثمن مضاعف- روز کہاں سے کوئی نیاپن اپنے آپ میں لائیں گےتم بھی تنگ آ جاؤ گے اک دن ہم بھی اکتا جائیں گےBashar Nawaz
- کیا کیا لوگ خوشی سے اپنی بکنے پر تیار ہوئےایک ہمیں دیوانے نکلے ہم ہی یہاں پر خوار ہوئےBashar Nawaz
- عشق کی چوسر کس نے کھیلی یہ تو کھیل ہمارے ہیںدل کی بازی مات ہوئی تو جان کی بازی ہارے ہیںمبارک عظیم آبادی
- مچھر اور مچھرانیاںافسر میرٹھی
- وطن کا راگ (افسر میرٹھی ,I)افسر میرٹھی
- چاروں طرف کچھ دیواریں سی رہتی ہیں آہوں میں لگیمیری مٹی تیرے گھر کی گہری بنیادوں میں لگیAabid Jafri
- ہم کو جاناں اس نگری میں چلنا بھی دشوار ہوالوگوں کا ہر سنگ ملامت اپنے لیے دیوار ہواAabid Jafri
- کوئی کر سکتا ہے یارو جیسا میں نے کام کیایار کے ذمے دی کر نیکی اپنے تئیں بد نام کیامرزا جواں بخت جہاں دار
- بیتے لمحوں کی خوشبوئیں زخموں کی سوغات ملیتنہائی کے سونے پن میں یادوں کی بارات ملیBadr Shamsi
- شمع جلے ہے محفل محفل خاک بسر پروانہ ہےاس دنیا میں درد پرایا سچ ہے کس نے جانا ہےBadr Shamsi
- رہنے دے یہ طنز کے نشتر اہل جنوں بے باک نہیںکون ہے اپنے ہوش میں ظالم کس کا گریباں چاک نہیںاختر انصاری اکبرآبادی
- یاروں کے اخلاص سے پہلے دل کا مرے یہ حال نہ تھااب وہ چکناچور پڑا ہے جس شیشے میں بال نہ تھااختر انصاری اکبرآبادی
- یوں ہی الجھی رہنے دو کیوں آفت سر پر لاتے ہودل کی الجھن بڑھتی ہے جب زلفوں کو سلجھاتے ہوامداد امام اثر
- قافلہ اترا صحرا میں اور پیش وہی منظر آئےراکھ اڑی خیمہ گاہوں کی خون میں لتھڑے سر آئےEjaz Gul
- ہم تم جب بھی پیار کریں گے جان و دل صدقے ہوں گےروحوں کی خوشبو میں ہوں گی باہوں کے گجرے ہوں گےEjaz Gul
- اب کے برس ہونٹوں سے میرے تشنہ لبی بھی ختم ہوئیتجھ سے ملنے کی اے دریا مجبوری بھی ختم ہوئیTahir Faraz
- کوئی حسیں منظر آنکھوں سے جب اوجھل ہو جائے گامجھ کو پاگل کہنے والا خود ہی پاگل ہو جائے گاTahir Faraz
- دیر و حرم کو چھوڑ کے اے دل چل بیٹھو میخانے میںخوب گزر جائے گی اپنی ساقی سے یارانے میںمرزا مسیتابیگ منتہی
- درس محبتعلی منظور حیدرآبادی
- عشق میں کیا ہاتھوں سے کسی کے دامن ہستی چھوٹ گیاشمع کوئی خاموش ہوئی یا کوئی ستارا ٹوٹ گیاسراج الدین ظفر
- جس کا بدن ہے خوشبو جیسا جس کی چال صبا سی ہےاس کو دھیان میں لاؤں کیسے وہ سپنوں کا باسی ہےیوسف ظفر
- کیا دن تھے جب چھپ چھپ کر تم پاس ہمارے آتے تھےکانپتے تھے بدنامی کے ڈر سے آنسو پی پی جاتے تھےمرزا محمد تقی ہوس
- بال بکھیرے آج پری تربت پر میرے آئے گیموت بھی میری ایک تماشہ عالم کو دکھلائے گیبھارتیندو ہریش چندر
- درد اور غم کے مارے نکلے رات سفر صحرا اور میںایک ہی جنگ کے ہارے نکلے رات سفر صحرا اور میںNadiya ambar lodhi
- دھانی سرمئی سبز گلابی جیسے ماں کا آنچل شامکیسے کیسے رنگ دکھائے روز لبالب چھاگل شامBadr Wasti
- کس کو فرصت کون پڑھے گا چہرے جیسا سچا سچروز عدالت میں چلتا ہے کھوٹا سکہ جھوٹا سچBadr Wasti
- وہ جب دے گا جو کچھ دے گا دے گا اپنے والوں کوویسے بھی کچھ ملتا کب ہے دھوپ میں تپنے والوں کوBadr Wasti
- ہم نے آنکھ سے دیکھا کتنے سورج نکلے ڈوب گئےلیکن تاروں سے پوچھو کب نکلے چمکے ڈوب گئےEjaz Obaid
- آخر دل کی پرانی لگن کر کے ہی رہے گی فقیر ہمیںہر رت آتے جاتے پائے ایک ہی شے کا اسیر ہمیںمختار صدیقی
- تھی تو سہی پر آج سے پہلے ایسی حقیر فقیر نہ تھیدل کی شرافت ذہن کی جودت اتنی بڑی تقصیر نہ تھیمختار صدیقی
- رات کے بعد وہ صبح کہاں ہے دن کے بعد وہ شام کہاںجو آشفتہ سری ہے مقدر اس میں قید مقام کہاںمختار صدیقی
- بھاگے اچھی شکلوں والے عشق ہے گویا کام برااپنی حالت کیا میں بتاؤں بد اچھا بدنام براشوق قدوائی
- دل کھوٹا ہے ہم کو اس سے راز عشق نہ کہنا تھاگھر کا بھیدی لنکا ڈھائے اتنا سمجھے رہنا تھاشوق قدوائی
- کوچہ کوچہ گھوم کے دیکھا بات تو اتنی جانی ہےجتنا جتنا شہر بڑا ہے اتنی ہی ویرانی ہےFaiz Tabassum Tonsvi
- سو باتوں کی بات ہے پیارے وہ جو ذات میں ہوتی ہےہر انسان کی عزت اس کے اپنے ہات میں ہوتی ہےUrooj Zehra Zaidi
- دل کا کھوج نہ پایا ہرگز دیکھا کھول جو قبروں کوجیتے جی ڈھونڈے سو پاوے خبر کرو بے خبروں کوNaji Shakir
- رنگ برنگی یادوں کا گلدان بچا ہے لے دے کرمیرے جینے کا بس اک سامان بچا ہے لے دے کرDeedar Bastawi
- جاگتے جاگتے عمر بسر ہو ایسا بھی ہو سکتا ہےپل میں شب فرقت کی سحر ہو ایسا بھی ہو سکتا ہےIbrahim Faiz
- میں انجان تھا جن سے ایسے جذبوں کی پہچان ہوئینورؔ بنا جو قوس قزح تو رنگوں کی پہچان ہوئیMadhav Noor
- وحشی تیرا طرز جنوں میں سب سے رہا بیگانہ بھیقیس سے گو الفت بھی رہی فرہاد سے تھا یارانہ بھیTabeeb Arvi
- خوابوں میں مصروف ہے تو پر میری یہ بیداری دیکھمیری راتوں کی سیاہی میں رنگ خوں کو طاری دیکھMadhuvan Rishi Raj
- اندیشوں کے شہر میں رہنا تیری میری عادت ہےمحرومی کے صدمے سہنا تیری میری عادت ہےQaisar Qalandar
- تعبیروں کو ڈھونڈ رہی ہوں خوابوں کی پرواہ نہیںمنزل پر ہی نظر ہے میری رستوں کی پرواہ نہیںVala Jamal Al Aseeli
- بحث تو اپنی ہے ہی نہیں طاقت والوں سےسارے دعوے ان کے الگ ہیں اپنی دلیلیں الگ سی ہیںYahya Amjad
- اپنی تو گزری ہے اکثر اپنی ہی من مانی میںلیکن اچھے کام بھی ہم نے کر ڈالے نادانی میںVilas Pandit Musafir
- جیون ہے پل پل کی الجھن کس کس پل کی بات کریںان لمحوں کو بھول کے ہم تم گیت غزل کی بات کریںVilas Pandit Musafir
- پھولوں کی خواہش میں اکثر کانٹوں کو اپناتے ہیںعادت سے مجبور ہیں اپنا دامن خود الجھاتے ہیںBalraj Kumar
- خود شیشے کے گھر میں بیٹھے پتھر پھینکیں اوروں پرزخمی لوگ پکاریں بھی تو تہمت آئے لوگوں پرUroosa Jilani
- جیب و گریباں ٹکڑے ٹکڑے دامن کو بھی تار کیاکیسے کیسے ہم نے اپنی وحشت کا اظہار کیاZafar Anwar
- معمولی بے کار سمجھنے والے مجھ سے دور رہیںمجھ کو اک آزار سمجھنے والے مجھ سے دور رہیںFaiz Alam Babar