میں انجان تھا جن سے ایسے جذبوں کی پہچان ہوئی

Madhav Noor

میں انجان تھا جن سے ایسے جذبوں کی پہچان ہوئی

نورؔ بنا جو قوس قزح تو رنگوں کی پہچان ہوئی

کھول کے آنکھیں جب بھی حقیقت کا میں نے دیدار کیا

مجھ کو دلاسہ دینے والے سپنوں کی پہچان ہوئی

میں سارے آکاش میں گھوما پنکھ تھکے تو لوٹ آیا

جب آ کر ڈالی پہ بیٹھا پیڑوں کی پہچان ہوئی

عشق میں مل کے کھینچ رہا ہے دیکھ لکیریں گالوں پر

دکھ اور کاجل کے ناجائز رشتوں کی پہچان ہوئی

میں نے اپنے رہبر کو بس یاد کیا اور مسکایا

مستوں کی ٹولی میں جب بھی پیروں سے پہچان ہوئی