اب کے برس ہونٹوں سے میرے تشنہ لبی بھی ختم ہوئی

Tahir Faraz

اب کے برس ہونٹوں سے میرے تشنہ لبی بھی ختم ہوئی

تجھ سے ملنے کی اے دریا مجبوری بھی ختم ہوئی

کیسا پیار کہاں کی الفت عشق کی بات تو جانے دو

میرے لیے اب اس کے دل سے ہمدردی بھی ختم ہوئی

سامنے والی بلڈنگ میں اب کام ہے بس آرائش کا

کل تک جو ملتی تھی ہمیں وہ مزدوری بھی ختم ہوئی

جیل سے واپس آ کر اس نے پانچوں وقت نماز پڑھی

منہ بھی بند ہوئے سب کے اور بدنامی بھی ختم ہوئی

جس کی جل دھارا سے بستی والے جیون پاتے تھے

رستہ بدلتے ہی ندی کے وہ بستی بھی ختم ہوئی