رنگ برنگی یادوں کا گلدان بچا ہے لے دے کر

Deedar Bastawi

رنگ برنگی یادوں کا گلدان بچا ہے لے دے کر

میرے جینے کا بس اک سامان بچا ہے لے دے کر

کھانے پینے کی سب چیزیں مہنگائی کی نذر ہوئیں

مہمانوں کے آگے دستر خوان بچا ہے لے دے کر

ردی کاغذ کی قیمت میں بچے اس کو بیچ نہ دیں

گھر میں جو غالبؔ کا اک دیوان بچا ہے لے دے کر

باپ کی ساری جاگیریں تو بانٹ لیں مل کر بیٹوں نے

ماں کے حصے میں گھر کا دالان بچا ہے لے دے کر

دولت عورت اور شہرت کی دیوانی اس دنیا میں

مشکل سے کچھ لوگوں کا ایمان بچا ہے لے دے کر

کیا جانے برسات کٹے گی کیسے میرے بچوں کی

گھر کی ڈھیری میں تھوڑا سا دھان بچا ہے لے دے کر

چل کر اب دیدارؔ وہیں پر گھر اپنا آباد کرو

گاؤں میں جو پرکھوں کا اک کھلیان بچا لے دے کر