شمع جلے ہے محفل محفل خاک بسر پروانہ ہے

Badr Shamsi

شمع جلے ہے محفل محفل خاک بسر پروانہ ہے

اس دنیا میں درد پرایا سچ ہے کس نے جانا ہے

بات فقط اتنی ہے واعظ دور کا ڈھول سہانا ہے

ورنہ جنت اپنی جگہ ہے مے خانہ مے خانہ ہے

ان کے جلوے میری نگاہیں دونوں ہیں کچھ فرق نہیں

مان لیا عنوان الگ ہیں لیکن ایک فسانہ ہے

ترک راہ و رسم وفا کا ہے ان پر الزام غلط

آج بھی اپنی خلوت دل میں ان کا آنا جانا ہے

آتے آتے آ جائے گا چین بھی غم کے ماروں کو

بھرتے بھرتے بھر جائے گا دل کا زخم پرانا ہے

بدرؔ ہمارے شیشۂ دل میں ہیں اس کی تصویر سبھی

جس کو سب کعبہ کہتے ہیں وہ بھی اک بت خانہ ہے