تعبیروں کو ڈھونڈ رہی ہوں خوابوں کی پرواہ نہیں

Vala Jamal Al Aseeli

تعبیروں کو ڈھونڈ رہی ہوں خوابوں کی پرواہ نہیں

منزل پر ہی نظر ہے میری رستوں کی پرواہ نہیں

اس کو کیا معلوم کہ صدیاں لمحوں سے ہی بنتی ہیں

صدیوں کی ہے فکر اسے ان لمحوں کی پرواہ نہیں

اپنے پن کا مطلب بھی تو لوگوں کو معلوم نہیں

میرا اپنا وہ ہے جس کو اپنوں کی پرواہ نہیں

میں نے دل میں ٹھان لیا تھا زنجیروں کو توڑوں گی

لیکن میرے دل نے پوچھا رشتوں کی پرواہ نہیں

ہم نے کھائے زخم ولاؔ ہم ان سے دور ہی رہتے ہیں

پھولوں سے وہ کھیلے جس کو کانٹوں کی پرواہ نہیں