خود شیشے کے گھر میں بیٹھے پتھر پھینکیں اوروں پر

Uroosa Jilani

خود شیشے کے گھر میں بیٹھے پتھر پھینکیں اوروں پر

زخمی لوگ پکاریں بھی تو تہمت آئے لوگوں پر

اپنی اپنی سوچ میں گم صم بھاگ رہے ہیں سارے لوگ

خوف و ہراس کے اب پہرے ہیں ہنستے بستے شہروں پر

چاروں سمت مسافر چیخیں پتھر کی مانند میں چپ

بحر کنارے دیکھ رہا ہوں ٹوٹی کشتی لہروں پر

ہم لوگوں نے جو سوچا ہے لکھا ہے بے خوفی سے

حاکم لوگوں نے تو خوب لگائے پہرے سوچوں پر