Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اس ایک ڈر سے خواب دیکھتا نہیںمیں جو بھی دیکھتا ہوں بھولتا نہیںTahzeeb Hafi
  2. اشک ضائع ہو رہے تھے دیکھ کر روتا نہ تھاجس جگہ بنتا تھا رونا میں ادھر روتا نہ تھاTahzeeb Hafi
  3. اک ترا ہجر دائمی ہے مجھےورنہ ہر چیز عارضی ہے مجھےTahzeeb Hafi
  4. اک حویلی ہوں اس کا در بھی ہوںخود ہی آنگن خود ہی شجر بھی ہوںTahzeeb Hafi
  5. بتا اے ابر مساوات کیوں نہیں کرتاہمارے گاؤں میں برسات کیوں نہیں کرتاTahzeeb Hafi
  6. بچھڑ کر اس کا دل لگ بھی گیا تو کیا لگے گاوو تھک جائے گا اور میرے گلے سے آ لگے گاTahzeeb Hafi
  7. پرائی آگ پہ روٹی نہیں بناؤں گامیں بھیگ جاؤں گا چھتری نہیں بناؤں گاTahzeeb Hafi
  8. تاریکیوں کو آگ لگے اور دیا جلےیہ رات بین کرتی رہے اور دیا جلےTahzeeb Hafi
  9. تو نے کیا قندیل جلا دی شہزادیسرخ ہوئی جاتی ہے وادی شہزادیTahzeeb Hafi
  10. تیرا چپ رہنا مرے ذہن میں کیا بیٹھ گیااتنی آوازیں تجھے دیں کہ گلا بیٹھ گیاTahzeeb Hafi
  11. جانے والے سے رابطہ رہ جائےگھر کی دیوار پر دیا رہ جائےTahzeeb Hafi
  12. جب اس کی تصویر بنایا کرتا تھاکمرا رنگوں سے بھر جایا کرتا تھاTahzeeb Hafi
  13. جب کسی ایک کو رہا کیا جائےسب اسیروں سے مشورہ کیا جائےTahzeeb Hafi
  14. چہرہ دیکھیں تیرے ہونٹ اور پلکیں دیکھیںدل پہ آنکھیں رکھیں تیری سانسیں دیکھیںTahzeeb Hafi
  15. چیختے ہیں در و دیوار نہیں ہوتا میںآنکھ کھلنے پہ بھی بیدار نہیں ہوتا میںTahzeeb Hafi
  16. خود پہ جب دشت کی وحشت کو مسلط کروں گااس قدر خاک اڑاؤں گا قیامت کروں گاTahzeeb Hafi
  17. دل کسی سمت کسی سمت قدم جاتا ہےتیرے موجود کے چکر میں عدم جاتا ہےTahzeeb Hafi
  18. دل محبت میں مبتلا ہو جائےجو ابھی تک نہ ہو سکا ہو جائےTahzeeb Hafi
  19. رات کو دیپ کی لو کم نہیں رکھی جاتیدھندھ میں روشنی مدھم نہیں رکھی جاتیTahzeeb Hafi
  20. زخموں نے مجھ میں دروازے کھولے ہیںمیں نے وقت سے پہلے ٹانکے کھولے ہیںTahzeeb Hafi
  21. سب کی کہانی ایک طرف ہے میرا قصہ ایک طرفایک طرف سیراب ہیں سارے اور میں پیاسا ایک طرفTahzeeb Hafi
  22. سو رہیں گے کہ جاگتے رہیں گےہم ترے خواب دیکھتے رہیں گےTahzeeb Hafi
  23. شور کروں گا اور نہ کچھ بھی بولوں گاخاموشی سے اپنا رونا رو لوں گاTahzeeb Hafi
  24. صحرا سے آنے والی ہواؤں میں ریت ہےہجرت کروں گا گاؤں سے گاؤں میں ریت ہےTahzeeb Hafi
  25. عجیب خواب تھا اس کے بدن میں کائی تھیوہ اک پری جو مجھے سبز کرنے آئی تھیTahzeeb Hafi
  26. قدم رکھتا ہے جب رستوں پہ یار آہستہ آہستہتو چھٹ جاتا ہے سب گرد و غبار آہستہ آہستہTahzeeb Hafi
  27. کچھ ضرورت سے کم کیا گیا ہےتیرے جانے کا غم کیا گیا ہےTahzeeb Hafi
  28. کسے خبر ہے کہ عمر بس اس پہ غور کرنے میں کٹ رہی ہےکہ یہ اداسی ہمارے جسموں سے کس خوشی میں لپٹ رہی ہےTahzeeb Hafi
  29. موسموں کے تغیر کو بھانپا نہیں چھتریاں کھول دیںزخم بھرنے سے پہلے کسی نے مری پٹیاں کھول دیںTahzeeb Hafi
  30. میں نے یہ کب کہا ہے کہ وہ مجھ کو تنہا نہیں چھوڑتاچھوڑتا ہے مگر ایک دن سے زیادہ نہیں چھوڑتاTahzeeb Hafi
  31. نہ نیند اور نہ خوابوں سے آنکھ بھرنی ہےکہ اس سے ہم نے تجھے دیکھنے کی کرنی ہےTahzeeb Hafi
  32. ویسے میں نے دنیا میں کیا دیکھا ہےتم کہتے ہو تو پھر اچھا دیکھا ہےTahzeeb Hafi
  33. ہم تمہارے غم سے باہر آ گئےہجر سے بچنے کے منتر آ گئےTahzeeb Hafi
  34. یہ ایک بات سمجھنے میں رات ہو گئی ہےمیں اس سے جیت گیا ہوں کہ مات ہو گئی ہےTahzeeb Hafi
  35. یہ کس نے باغ سے اس شخص کو بلا لیا ہےپرند اڑ گئے پیڑوں نے منہ بنا لیا ہےTahzeeb Hafi
  36. اک اشارے سے دیوار دل کی دراڑوں میں تو نے جو روشن کیے تھے چراغان کے بجھنے کا دکھ ایک جیسا ہے دونوں طرفTahzeeb Hafi
  37. تو کسی اور ہی دنیا میں ملی تھی مجھ سےتو کسی اور ہی منظر کی مہک لائی تھیTahzeeb Hafi
  38. سفید شرٹ تھی تم سیڑھیوں پہ بیٹھے تھےمیں جب کلاس سے نکلی تھی مسکراتے ہوئےTahzeeb Hafi
  39. میں سپنوں میںآکسیجن پلانٹ انسٹال کر رہا ہوںTahzeeb Hafi
  40. ترے پورے بدن پر اک مقدس آگ کا پہرہ ہےجو تیری طرف بڑھتے ہوئے ہاتھوں کے ناخن روک لیتا ہےTahzeeb Hafi
  41. تیرے ہونٹوں سے بہتی ہوئی یہ ہنسیدو جہانوں پہ نافذ نہ ہونے کا باعثTahzeeb Hafi
  42. جب وہ اس دنیا کے شور اور خاموشی سےقطع تعلق ہو کے انگلش میں غصہ کرتی ہےTahzeeb Hafi
  43. کتنا عرصہ لگا ناامیدی کے پربت سے پتھر ہٹاتے ہوئےایک بپھری ہوئی لہر کو رام کرتے ہوئےTahzeeb Hafi