Poetry
- اس ایک ڈر سے خواب دیکھتا نہیںمیں جو بھی دیکھتا ہوں بھولتا نہیںTahzeeb Hafi
- اشک ضائع ہو رہے تھے دیکھ کر روتا نہ تھاجس جگہ بنتا تھا رونا میں ادھر روتا نہ تھاTahzeeb Hafi
- اک ترا ہجر دائمی ہے مجھےورنہ ہر چیز عارضی ہے مجھےTahzeeb Hafi
- اک حویلی ہوں اس کا در بھی ہوںخود ہی آنگن خود ہی شجر بھی ہوںTahzeeb Hafi
- بتا اے ابر مساوات کیوں نہیں کرتاہمارے گاؤں میں برسات کیوں نہیں کرتاTahzeeb Hafi
- بچھڑ کر اس کا دل لگ بھی گیا تو کیا لگے گاوو تھک جائے گا اور میرے گلے سے آ لگے گاTahzeeb Hafi
- پرائی آگ پہ روٹی نہیں بناؤں گامیں بھیگ جاؤں گا چھتری نہیں بناؤں گاTahzeeb Hafi
- تاریکیوں کو آگ لگے اور دیا جلےیہ رات بین کرتی رہے اور دیا جلےTahzeeb Hafi
- تو نے کیا قندیل جلا دی شہزادیسرخ ہوئی جاتی ہے وادی شہزادیTahzeeb Hafi
- تیرا چپ رہنا مرے ذہن میں کیا بیٹھ گیااتنی آوازیں تجھے دیں کہ گلا بیٹھ گیاTahzeeb Hafi
- جانے والے سے رابطہ رہ جائےگھر کی دیوار پر دیا رہ جائےTahzeeb Hafi
- جب اس کی تصویر بنایا کرتا تھاکمرا رنگوں سے بھر جایا کرتا تھاTahzeeb Hafi
- جب کسی ایک کو رہا کیا جائےسب اسیروں سے مشورہ کیا جائےTahzeeb Hafi
- چہرہ دیکھیں تیرے ہونٹ اور پلکیں دیکھیںدل پہ آنکھیں رکھیں تیری سانسیں دیکھیںTahzeeb Hafi
- چیختے ہیں در و دیوار نہیں ہوتا میںآنکھ کھلنے پہ بھی بیدار نہیں ہوتا میںTahzeeb Hafi
- خود پہ جب دشت کی وحشت کو مسلط کروں گااس قدر خاک اڑاؤں گا قیامت کروں گاTahzeeb Hafi
- دل کسی سمت کسی سمت قدم جاتا ہےتیرے موجود کے چکر میں عدم جاتا ہےTahzeeb Hafi
- دل محبت میں مبتلا ہو جائےجو ابھی تک نہ ہو سکا ہو جائےTahzeeb Hafi
- رات کو دیپ کی لو کم نہیں رکھی جاتیدھندھ میں روشنی مدھم نہیں رکھی جاتیTahzeeb Hafi
- زخموں نے مجھ میں دروازے کھولے ہیںمیں نے وقت سے پہلے ٹانکے کھولے ہیںTahzeeb Hafi
- سب کی کہانی ایک طرف ہے میرا قصہ ایک طرفایک طرف سیراب ہیں سارے اور میں پیاسا ایک طرفTahzeeb Hafi
- سو رہیں گے کہ جاگتے رہیں گےہم ترے خواب دیکھتے رہیں گےTahzeeb Hafi
- شور کروں گا اور نہ کچھ بھی بولوں گاخاموشی سے اپنا رونا رو لوں گاTahzeeb Hafi
- صحرا سے آنے والی ہواؤں میں ریت ہےہجرت کروں گا گاؤں سے گاؤں میں ریت ہےTahzeeb Hafi
- عجیب خواب تھا اس کے بدن میں کائی تھیوہ اک پری جو مجھے سبز کرنے آئی تھیTahzeeb Hafi
- قدم رکھتا ہے جب رستوں پہ یار آہستہ آہستہتو چھٹ جاتا ہے سب گرد و غبار آہستہ آہستہTahzeeb Hafi
- کچھ ضرورت سے کم کیا گیا ہےتیرے جانے کا غم کیا گیا ہےTahzeeb Hafi
- کسے خبر ہے کہ عمر بس اس پہ غور کرنے میں کٹ رہی ہےکہ یہ اداسی ہمارے جسموں سے کس خوشی میں لپٹ رہی ہےTahzeeb Hafi
- موسموں کے تغیر کو بھانپا نہیں چھتریاں کھول دیںزخم بھرنے سے پہلے کسی نے مری پٹیاں کھول دیںTahzeeb Hafi
- میں نے یہ کب کہا ہے کہ وہ مجھ کو تنہا نہیں چھوڑتاچھوڑتا ہے مگر ایک دن سے زیادہ نہیں چھوڑتاTahzeeb Hafi
- نہ نیند اور نہ خوابوں سے آنکھ بھرنی ہےکہ اس سے ہم نے تجھے دیکھنے کی کرنی ہےTahzeeb Hafi
- ویسے میں نے دنیا میں کیا دیکھا ہےتم کہتے ہو تو پھر اچھا دیکھا ہےTahzeeb Hafi
- ہم تمہارے غم سے باہر آ گئےہجر سے بچنے کے منتر آ گئےTahzeeb Hafi
- یہ ایک بات سمجھنے میں رات ہو گئی ہےمیں اس سے جیت گیا ہوں کہ مات ہو گئی ہےTahzeeb Hafi
- یہ کس نے باغ سے اس شخص کو بلا لیا ہےپرند اڑ گئے پیڑوں نے منہ بنا لیا ہےTahzeeb Hafi
- اک اشارے سے دیوار دل کی دراڑوں میں تو نے جو روشن کیے تھے چراغان کے بجھنے کا دکھ ایک جیسا ہے دونوں طرفTahzeeb Hafi
- تو کسی اور ہی دنیا میں ملی تھی مجھ سےتو کسی اور ہی منظر کی مہک لائی تھیTahzeeb Hafi
- سفید شرٹ تھی تم سیڑھیوں پہ بیٹھے تھےمیں جب کلاس سے نکلی تھی مسکراتے ہوئےTahzeeb Hafi
- میں سپنوں میںآکسیجن پلانٹ انسٹال کر رہا ہوںTahzeeb Hafi
- ترے پورے بدن پر اک مقدس آگ کا پہرہ ہےجو تیری طرف بڑھتے ہوئے ہاتھوں کے ناخن روک لیتا ہےTahzeeb Hafi
- تیرے ہونٹوں سے بہتی ہوئی یہ ہنسیدو جہانوں پہ نافذ نہ ہونے کا باعثTahzeeb Hafi
- جب وہ اس دنیا کے شور اور خاموشی سےقطع تعلق ہو کے انگلش میں غصہ کرتی ہےTahzeeb Hafi
- کتنا عرصہ لگا ناامیدی کے پربت سے پتھر ہٹاتے ہوئےایک بپھری ہوئی لہر کو رام کرتے ہوئےTahzeeb Hafi