جب اس کی تصویر بنایا کرتا تھا

Tahzeeb Hafi

جب اس کی تصویر بنایا کرتا تھا

کمرا رنگوں سے بھر جایا کرتا تھا

پیڑ مجھے حسرت سے دیکھا کرتے تھے

میں جنگل میں پانی لایا کرتا تھا

تھک جاتا تھا بادل سایہ کرتے کرتے

اور پھر میں بادل پہ سایہ کرتا تھا

بیٹھا رہتا تھا ساحل پہ سارا دن

دریا مجھ سے جان چھڑایا کرتا تھا

بنت صحرا روٹھا کرتی تھی مجھ سے

میں صحرا سے ریت چرایا کرتا تھا