تو نے کیا قندیل جلا دی شہزادی
Tahzeeb Hafiتو نے کیا قندیل جلا دی شہزادی
سرخ ہوئی جاتی ہے وادی شہزادی
شیش محل کو صاف کیا ترے کہنے پر
آئینوں سے گرد ہٹا دی شہزادی
اب تو خواب کدے سے باہر پاؤں رکھ
لوٹ گئے ہیں سب فریادی شہزادی
تیرے ہی کہنے پر ایک سپاہی نے
اپنے گھر کو آگ لگا دی شہزادی
میں تیرے دشمن لشکر کا شہزادہ
کیسے ممکن ہے یہ شادی شہزادی