خود پہ جب دشت کی وحشت کو مسلط کروں گا

Tahzeeb Hafi

خود پہ جب دشت کی وحشت کو مسلط کروں گا

اس قدر خاک اڑاؤں گا قیامت کروں گا

ہجر کی رات مری جان کو آئی ہوئی ہے

بچ گیا تو میں محبت کی مذمت کروں گا

جس کے سائے میں تجھے پہلے پہل دیکھا تھا

میں اسی پیڑ کے نیچے تری بیعت کروں گا

اب ترے راز سنبھالے نہیں جاتے مجھ سے

میں کسی روز امانت میں خیانت کروں گا

تیری یادوں نے اگر ہاتھ بٹایا میرا

اپنے ٹوٹے ہوئے خوابوں کی مرمت کروں گا

لیلۃ القدر گزاروں گا کسی جنگل میں

نور برسے گا درختوں کی امامت کروں گا