کچھ ضرورت سے کم کیا گیا ہے

Tahzeeb Hafi

کچھ ضرورت سے کم کیا گیا ہے

تیرے جانے کا غم کیا گیا ہے

تا قیامت ہرے بھرے رہیں گے

ان درختوں پہ دم کیا گیا ہے

اس لیے روشنی میں ٹھنڈک ہے

کچھ چراغوں کو نم کیا گیا ہے

کیا یہ کم ہے کہ آخری بوسہ

اس جبیں پر رقم کیا گیا ہے

پانیوں کو بھی خواب آنے لگے

اشک دریا میں ضم کیا گیا ہے

ان کی آنکھوں کا تذکرہ کر کے

میری آنکھوں کو نم کیا گیا ہے

دھول میں اٹ گئے ہیں سارے غزال

اتنی شدت سے رم کیا گیا ہے