سو رہیں گے کہ جاگتے رہیں گے

Tahzeeb Hafi

سو رہیں گے کہ جاگتے رہیں گے

ہم ترے خواب دیکھتے رہیں گے

تو کہیں اور ڈھونڈھتا رہے گا

ہم کہیں اور ہی کھلے رہیں گے

راہگیروں نے رہ بدلنی ہے

پیڑ اپنی جگہ کھڑے رہے ہیں

برف پگھلے گی اور پہاڑوں میں

سالہا سال راستے رہیں گے

سبھی موسم ہیں دسترس میں تری

تو نے چاہا تو ہم ہرے رہیں گے

لوٹنا کب ہے تو نے پر تجھ کو

عادتاً ہی پکارتے رہیں گے

تجھ کو پانے میں مسئلہ یہ ہے

تجھ کو کھونے کے وسوسے رہیں گے

تو ادھر دیکھ مجھ سے باتیں کر

یار چشمے تو پھوٹتے رہیں گے