اک ترا ہجر دائمی ہے مجھے

Tahzeeb Hafi

اک ترا ہجر دائمی ہے مجھے

ورنہ ہر چیز عارضی ہے مجھے

ایک سایہ مرے تعاقب میں

ایک آواز ڈھونڈتی ہے مجھے

میری آنکھوں پہ دو مقدس ہاتھ

یہ اندھیرا بھی روشنی ہے مجھے

میں سخن میں ہوں اس جگہ کہ جہاں

سانس لینا بھی شاعری ہے مجھے

ان پرندوں سے بولنا سیکھا

پیڑ سے خامشی ملی ہے مجھے

میں اسے کب کا بھول بھال چکا

زندگی ہے کہ رو رہی ہے مجھے

میں کہ کاغذ کی ایک کشتی ہوں

پہلی بارش ہی آخری ہے مجھے