جب کسی ایک کو رہا کیا جائے
Tahzeeb Hafiجب کسی ایک کو رہا کیا جائے
سب اسیروں سے مشورہ کیا جائے
رہ لیا جائے اپنے ہونے پر
اپنے مرنے پہ حوصلہ کیا جائے
عشق کرنے میں کیا برائی ہے
ہاں کیا جائے بارہا کیا جائے
میرا اک یار سندھ کے اس پار
ناخداؤں سے رابطہ کیا جائے
میری نقلیں اتارنے لگا ہے
آئنے کا بتاؤ کیا کیا جائے
خامشی سے لدا ہوا اک پیڑ
اس سے چل کر مکالمہ کیا جائے