جب وہ اس دنیا کے شور اور خاموشی سے
Tahzeeb Hafiجب وہ اس دنیا کے شور اور خاموشی سے
قطع تعلق ہو کے انگلش میں غصہ کرتی ہے
میں تو ڈر جاتا ہوں لیکن
کمرے کی دیواریں ہنسنے لگتی ہیں
وہ اک ایسی آگ ہے جس کو صرف دہکنے سے مطلب ہے
وہ اک ایسا پھول ہے جس پر اپنی خوشبو بوجھ بنی ہے
وہ اک ایسا خواب ہے جس کو دیکھنے والا خود مشکل میں پڑ سکتا ہے
اس کو چھونے کی خواہش تو ٹھیک ہے لیکن
پانی کون پکڑ سکتا ہے
وہ رنگوں سے واقف ہے
بلکہ ہر اک رنگ کے شجرے تک سے واقف ہے
اس کو علم ہے کن خوابوں سے آنکھیں نیلی پڑ جاتی ہیں
ہم نے جن کو نفرت سے منسوب کیا
وہ ان پیلے پھولوں کی عزت کرتی ہے
کبھی کبھی وہ اپنے ہاتھ میں پنسل لے کر ایسی سطریں کھینچتی ہے
سب کچھ سیدھا ہو جاتا ہے
وہ چاہے تو ہر اک چیز کو اس کے اصل میں لا سکتی ہے
صرف اسی کے ہاتھوں سے دنیا ترتیب میں آ سکتی ہے
ہر پتھر اس پاؤں سے ٹکرانے کی خواہش میں زندہ ہے
لیکن یہ تو اسی ادھورے پن کا جہاں ہے
ہر پنجرے میں ایسے قیدی کب ہوتے ہیں
ہر کپڑے کی قسمت میں وہ جسم کہاں ہے
میری بے مقصد باتوں سے تنگ بھی آ جاتی ہے تو
محسوس نہیں ہونے دیتی
لیکن اپنے ہونے سے اکتا جاتی ہے
اس کو وقت کی پابندی سے کیا مطلب ہے
وہ تو بند گھڑی بھی ہاتھ میں باندھ کے کالج آ جاتی ہے