زخموں نے مجھ میں دروازے کھولے ہیں

Tahzeeb Hafi

زخموں نے مجھ میں دروازے کھولے ہیں

میں نے وقت سے پہلے ٹانکے کھولے ہیں

باہر آنے کی بھی سکت نہیں ہم میں

تو نے کس موسم میں پنجرے کھولے ہیں

برسوں سے آوازیں جمتی جاتی تھیں

خاموشی نے کان کے پردے کھولے ہیں

کون ہماری پیاس پہ ڈاکا ڈال گیا

کس نے مشکیزوں کے تسمے کھولے ہیں

ورنہ دھوپ کا پربت کس سے کٹتا تھا

اس نے چھتری کھول کے رستے کھولے ہیں

یہ میرا پہلا رمضان تھا اس کے بغیر

مت پوچھو کس منہ سے روزے کھولے ہیں

یوں تو مجھ کو کتنے خط موصول ہوئے

اک دو ایسے تھے جو دل سے کھولے ہیں

منت ماننے والوں کو معلوم نہیں

کس نے آ کر پیڑ سے دھاگے کھولے ہیں

دریا بند کیا ہے کوزے میں تہذیبؔ

اک چابی سے سارے تالے کھولے ہیں