دل محبت میں مبتلا ہو جائے
Tahzeeb Hafiدل محبت میں مبتلا ہو جائے
جو ابھی تک نہ ہو سکا ہو جائے
تجھ میں یہ عیب ہے کہ خوبی ہے
جو تجھے دیکھ لے ترا ہو جائے
خود کو ایسی جگہ چھپایا ہے
کوئی ڈھونڈھے تو لاپتا ہو جائے
میں تجھے چھوڑ کر چلا جاؤں
سایا دیوار سے جدا ہو جائے
بس وہ اتنا کہے مجھے تم سے
اور پھر کال منقطع ہو جائے
دل بھی کیسا درخت ہے حافیؔ
جو تری یاد سے ہرا ہو جائے