شور کروں گا اور نہ کچھ بھی بولوں گا
Tahzeeb Hafiشور کروں گا اور نہ کچھ بھی بولوں گا
خاموشی سے اپنا رونا رو لوں گا
ساری عمر اسی خواہش میں گزری ہے
دستک ہوگی اور دروازہ کھولوں گا
تنہائی میں خود سے باتیں کرنی ہیں
میرے منہ میں جو آئے گا بولوں گا
رات بہت ہے تم چاہو تو سو جاؤ
میرا کیا ہے میں دن میں بھی سو لوں گا
تم کو دل کی بات بتانی ہے لیکن
آنکھیں بند کرو تو مٹھی کھولوں گا