تو کسی اور ہی دنیا میں ملی تھی مجھ سے

Tahzeeb Hafi

تو کسی اور ہی دنیا میں ملی تھی مجھ سے

تو کسی اور ہی منظر کی مہک لائی تھی

ڈر رہا تھا کہ کہیں زخم نہ بھر جائیں مرے

اور تو مٹھیاں بھر بھر کے نمک لائی تھی

اور ہی طرح کی آنکھیں تھیں ترے چہرے پر

تو کسی اور ستارے سے چمک لائی تھی

تیری آواز ہی سب کچھ تھی مجھے مونس جاں

کیا کروں میں کہ تو بولی ہی بہت کم مجھ سے

تیری چپ سے ہی یہ محسوس کیا تھا میں نے

جیت جائے گا کسی روز ترا غم مجھ سے

شہر آوازیں لگاتا تھا مگر تو چپ تھی

یہ تعلق مجھے کھاتا تھا مگر تو چپ تھی

وہی انجام تھا جو عشق کا آغاز سے ہے

تجھ کو پایا بھی نہیں تھا کہ تجھے کھونا تھا

چلی آتی ہے یہی رسم کئی صدیوں سے

یہی ہوتا ہے یہی ہوگا یہی ہونا تھا

پوچھتا رہتا تھا تجھ سے کہ بتا کیا دکھ ہے

اور مری آنکھ میں آنسو بھی نہیں ہوتے تھے

میں نے اندازے لگائے کہ سبب کیا ہوگا

پر مرے تیر ترازو بھی نہیں ہوتے تھے

جس کا ڈر تھا مجھے معلوم پڑا لوگوں سے

پھر وہ خوش بخت پلٹ آیا تری دنیا میں

جس کے جانے پہ مجھے تو نے جگہ دی دل میں

میری قسمت میں ہی جب خالی جگہ لکھی تھی

تجھ سے شکوہ بھی اگر کرتا تو کیسے کرتا

میں وہ سبزہ تھا جسے روند دیا جاتا ہے

میں وہ جنگل تھا جسے کاٹ دیا جاتا ہے

میں وہ در تھا جسے دستک کی کمی کھاتی ہے

میں وہ منزل تھا جہاں ٹوٹی سڑک جاتی ہے

میں وہ گھر تھا جسے آباد نہیں کرتا کوئی

میں تو وہ تھا کہ جسے یاد نہیں کرتا کوئی

خیر اس بات کو تو چھوڑ بتا کیسی ہے

تو نے چاہا تھا جسے وہ ترے نزدیک تو ہے

کون سے غم نے تجھے چاٹ لیا اندر سے

آج کل پھر سے تو چپ رہتی ہے سب ٹھیک تو ہے