اک حویلی ہوں اس کا در بھی ہوں

Tahzeeb Hafi

اک حویلی ہوں اس کا در بھی ہوں

خود ہی آنگن خود ہی شجر بھی ہوں

اپنی مستی میں بہتا دریا ہوں

میں کنارہ بھی ہوں بھنور بھی ہوں

آسماں اور زمیں کی وسعت دیکھ

میں ادھر بھی ہوں اور ادھر بھی ہوں

خود ہی میں خود کو لکھ رہا ہوں خط

اور میں اپنا نامہ بر بھی ہوں

داستاں ہوں میں اک طویل مگر

تو جو سن لے تو مختصر بھی ہوں

ایک پھل دار پیڑ ہوں لیکن

وقت آنے پہ بے ثمر بھی ہوں