موسموں کے تغیر کو بھانپا نہیں چھتریاں کھول دیں

Tahzeeb Hafi

موسموں کے تغیر کو بھانپا نہیں چھتریاں کھول دیں

زخم بھرنے سے پہلے کسی نے مری پٹیاں کھول دیں

ہم مچھیروں سے پوچھو سمندر نہیں ہے یہ عفریت ہے

تم نے کیا سوچ کر ساحلوں سے بندھی کشتیاں کھول دیں

اس نے وعدوں کے پربت سے لٹکے ہوؤں کو سہارا دیا

اس کی آواز پر کوہ پیماؤں نے رسیاں کھول دیں

دشت غربت میں میں اور مرا یار شب زاد باہم ملے

یار کے پاس جو کچھ بھی تھا یار نے گٹھڑیاں کھول دیں

کچھ برس تو تری یاد کی ریل دل سے گزرتی رہی

اور پھر میں نے تھک ہار کے ایک دن پٹریاں کھول دیں

اس نے صحراؤں کی سیر کرتے ہوئے اک شجر کے تلے

اپنی آنکھوں سے عینک اتاری کہ دو ہرنیاں کھول دیں

آج ہم کر چکے عہد ترک سخن پر رقم دستخط

آج ہم نے نئے شاعروں کے لیے بھرتیاں کھول دیں