ترے پورے بدن پر اک مقدس آگ کا پہرہ ہے

Tahzeeb Hafi

ترے پورے بدن پر اک مقدس آگ کا پہرہ ہے

جو تیری طرف بڑھتے ہوئے ہاتھوں کے ناخن روک لیتا ہے

ترے ہونٹوں سے نکلے سانس کی خوشبو

در و دیوار سے رستہ بنا کر سارے بر اعظموں میں پھیل سکتی ہے

تری بانہیں ابد کو جانے والی شاہراہیں ہیں

تری آنکھیں نہیں یہ دیوتاؤں کی پنہ گاہیں ہیں

جن میں وقت جیسے زہر کا تریاق ہے

تری زلفوں کی وسعت اس جہاں کی انتہاؤں سے پرے تک ہے

تری گردن کسی جنت کے پاکیزہ درختوں کے تنے کو دیکھ کر ترشی گئی ہے

ہمارے جسم پر سے تیری پرچھائی گزر جائے

تو ممکن ہے کہ ہم اس موت جیسے خوف سے آزاد ہو جائیں

ہمارے پاس ایسا کیا ہے جو تجھ کو بتا کر ہم تجھے قائل کریں

بس اتنا ہے کہ اپنے لفظ برسا کر تری چھتری پہ بارش پھینک دیں گے

یا ترے چہرے پہ اپنی نظم کی اک سطر سے چھاؤں کریں گے

دھوپ دے دیں گے

مگر کیا فائدہ اس کا کہ موسم خود ترے جوتوں کے تسموں سے بندھے ہیں

ترے ہم راہ چلنے کی کوئی خواہش اگر دل میں کبھی تھی بھی

تو ہم نے ترک کر دی ہے

ہم اس لائق نہیں ہیں

ہمیں معلوم ہے کہ اگلے وقتوں میں یہ لوگ

ترے پیروں کے سانچوں سے نئی سمتوں کے اندازے لگائیں گے