میں سپنوں میں
Tahzeeb Hafiمیں سپنوں میں
آکسیجن پلانٹ انسٹال کر رہا ہوں
اور ہر مرنے والے کے ساتھ مر رہا ہوں
میں اپنے لفظوں کے ذریعے
تمہیں سانسوں کے سیلینڈر بھیجوں گا
جو تمہیں اس جنگ میں ہارنے نہیں دیں گے
اور تمہاری دیکھ بھال کرنے
والوں کے ہاتھوں کو کانپنے نہیں دیں گے
آکسیجن اسٹاک ختم ہونے کی
خبریں گردش بھی کریں بھی تو کیا
میں تمہارے لیے
اپنے نظموں سے وینٹیلیٹر بناؤں گا
اسپتالوں کے بستر بھر بھی جائیں
کچھ لوگ تم سے بچھڑ بھی جائیں
تو حوصلہ مت ہارنا
کیوں کہ رات جتنی چاہے
مرضی کالی ہو گزر جانے کے لئے ہوتی ہے
رنگ اتر جانے کے لئے ہوتے ہیں
اور زخم بھر جانے کے لئے ہوتے ہیں