دل کسی سمت کسی سمت قدم جاتا ہے
Tahzeeb Hafiدل کسی سمت کسی سمت قدم جاتا ہے
تیرے موجود کے چکر میں عدم جاتا ہے
اور تو کچھ نہیں ہوتا ترے ملنے سے مگر
ایک طوفان تعلق ہے جو تھم جاتا ہے
مجھ کو ساون میں کبھی خط نہ روانہ کرنا
جاتے جاتے ترے مکتوب سے نم جاتا ہے
اس لیے بولا اسے خود سے پرے جانے کا
جس طرف ہم اسے کہتے ہیں وہ کم جاتا ہے
رقص دوشیزۂ دنیا پہ نظر پڑتے ہی
جام جمشید مرے ہاتھ میں جم جاتا ہے
کسی دل سے کسی پہلو سے کسی دنیا سے
آدمی جاتا ہے کب رنج و الم جاتا ہے
نغمۂ طول شب ہجر مرے بس کا نہیں
میں اگر لے کو پکڑتا ہوں تو سم جاتا ہے
ہاتھ اٹھا لوں تو تری خوشبو چلی جائے گی
سر جھٹک دوں تو ترا دست ستم جاتا ہے
بعض اوقات ہواؤں کے تعاقب کے لیے
میں نہ جاؤں تو مرا نقش قدم جاتا ہے