جانے والے سے رابطہ رہ جائے

Tahzeeb Hafi

جانے والے سے رابطہ رہ جائے

گھر کی دیوار پر دیا رہ جائے

اک نظر جو بھی دیکھ لے تجھ کو

وہ ترے خواب دیکھتا رہ جائے

اتنی گرہیں لگی ہیں اس دل پر

کوئی کھولے تو کھولتا رہ جائے

کوئی کمرے میں آگ تاپتا ہو

کوئی بارش میں بھیگتا رہ جائے

نیند ایسی کہ رات کم پڑ جائے

خواب ایسا کہ منہ کھلا رہ جائے

جھیل سیف الملوک پر جاؤں

اور کمرے میں کیمرہ رہ جائے