اک اشارے سے دیوار دل کی دراڑوں میں تو نے جو روشن کیے تھے چراغ
Tahzeeb Hafiاک اشارے سے دیوار دل کی دراڑوں میں تو نے جو روشن کیے تھے چراغ
ان کے بجھنے کا دکھ ایک جیسا ہے دونوں طرف
کاش تو اپنے زنداں سے مجھ کو رہائی نہ دیتا
کون بیتے ہوئے خواب پر خاک ڈالے
کون اتنی غلط فہمیوں کا ازالہ کرے
کس سے پوچھیں وبا اور وفا میں بنائے ہوئے بے تکلف تعلق
کی عمریں اگر مختصر ہیں تو کیوں ہیں
کون بھولے اماوس کی راتوں سی زلفوں کی رعنائیاں
کون دل سے حیا دار آنکھوں کی یادیں مٹا دے
دوست کس کو مفر ہے یہاں بے یقینی کے سیل بلا سے
دوست کشتی سنبھالی نہیں جا رہی اب ترے نا خدا سے
مونس جان ایسا بھی کیا کر لیا
غم تو تب تھا کہ میں تیرے جانے کا غم بھی نہ کرتا
میرے دن میری راتیں ترے سامنے ہیں
بتا ہاتھ کب تھامنے ہیں