کتنا عرصہ لگا ناامیدی کے پربت سے پتھر ہٹاتے ہوئے
Tahzeeb Hafiکتنا عرصہ لگا ناامیدی کے پربت سے پتھر ہٹاتے ہوئے
ایک بپھری ہوئی لہر کو رام کرتے ہوئے
ناخداؤں میں اب پیچھے کتنے بچے ہیں
روشنی اور اندھیرے کی تفریق میں کتنے لوگوں نے آنکھیں گنوا دیں
کتنی صدیاں سفر میں گزاریں
مگر آج پھر اس جگہ ہیں جہاں سے ہمیں اپنی ماؤں نے
رخصت کیا تھا
اپنے سب سے بڑے خواب کو اپنی آنکھوں کے آگے اجڑتے ہوئے
دیکھنے سے برا کچھ نہیں ہے
تیری قربت میں یا تجھ سے دوری پہ جتنی گزاری
تیری چوڑیوں کی قسم زندگی دائروں کے سوا کچھ نہیں ہے
کہنیوں سے ہمیں اپنا منہ ڈھانپ کر کھانسنے کو بڑوں نے کہا تھا
لیکن ہمیں یہ پتا ہی نہیں تھا کہ ان پہ وہ آفات ٹوٹی ہیں
جن کا ہمیں اک صدی بعد پھر سامنا ہے
وبا کے دنوں میں کسے ہوش رہتا ہے
کس ہاتھ کو چھوڑنا ہے کسے تھامنا ہے
اک ریاضی کے استاد نے اپنے ہاتھوں میں پرکار لے کر
یہ دنیا نہیں دائرہ کھینچنا تھا
خیر جو بھی ہوا تم بھی پرکھوں کے نقش قدم پر چلو
اور اپنی حفاظت کرو
کچھ مہینے تمہیں اپنے تسمے نہیں باندھنے
اس سے پہلے کہ تم اپنے محبوب کو وینٹیلیٹر پہ دیکھو
گھروں میں رہو