ویسے میں نے دنیا میں کیا دیکھا ہے

Tahzeeb Hafi

ویسے میں نے دنیا میں کیا دیکھا ہے

تم کہتے ہو تو پھر اچھا دیکھا ہے

میں اس کو اپنی وحشت تحفے میں دوں

ہاتھ اٹھائے جس نے صحرا دیکھا ہے

بن دیکھے اس کی تصویر بنا لوں گا

آج تو میں نے اس کو اتنا دیکھا ہے

ایک نظر میں منظر کب کھلتے ہیں دوست

تو نے دیکھا بھی ہے تو کیا دیکھا ہے

عشق میں بندہ مر بھی سکتا ہے میں نے

دل کی دستاویز میں لکھا دیکھا ہے

میں تو آنکھیں دیکھ کے ہی بتلا دوں گا

تم میں سے کس کس نے دریا دیکھا ہے

آگے سیدھے ہاتھ پہ ایک ترائی ہے

میں نے پہلے بھی یہ رستہ دیکھا ہے

تم کو تو اس باغ کا نام پتا ہوگا

تم نے تو اس شہر کا نقشہ دیکھا ہے