ہم تمہارے غم سے باہر آ گئے

Tahzeeb Hafi

ہم تمہارے غم سے باہر آ گئے

ہجر سے بچنے کے منتر آ گئے

میں نے تم کو اندر آنے کا کہا

تم تو میرے دل کے اندر آ گئے

ایک ہی عورت کو دنیا مان کر

اتنا گھوما ہوں کہ چکر آ گئے

امتحان عشق مشکل تھا مگر

نقل کر کے اچھے نمبر آ گئے